زغری ریٹکلف نے مہساامینی کی موت کے خلاف احتجاجاً اپنے سرکے بال کاٹ لیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں چھے سال تک قید رہنے والی ایرانی نژاد برطانوی امدادی کارکن نازنین زغری ریٹکلف نے مہسا امینی کی موت کے خلاف احتجاجاً اپنے سر کے بال کاٹ لیے ہیں اور اس کی ویڈیوجاری کی ہے۔

بی بی سی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوفوٹیج میں زغری ریٹکلف ایک بلیک بورڈ کے سامنے بیٹھی دکھائی دے رہی ہیں۔اس پر فارسی پیغامات لکھے ہوئے ہیں اور وہ اپنے بال کاٹ رہی ہیں۔

وہ اپنے بالوں میں قینچی چلاتے ہوئے کَہ رہی ہیں:’’مہسا کے نام پر، پویا کے لیے ، مصطفیٰ کے لیے ، نیلوفر کے لیے ، سپیدہ کے لیے ، نرگس کے لیے ، مریم اورمراد کے لیے ، سیامک کے لیے ، ... پارسااور میری ماں کے لیے، میری بیٹی، گیسا کے لیے، زہرا کے لیے، کسریٰ کے لیے، تنہائی کے خوف کے خلاف، سچائی سے زیادہ بڑے خوف کے لیے، میرے ملک کی عورتوں کی آزادی اورانصاف کے لیے‘‘۔

اس ویڈیو میں ذکر کیے گئے ناموں میں ایسی صحافیوں اور کارکنوں کے نام بھی شامل ہیں جنہیں حالیہ مظاہروں میں گرفتار کیا گیا یا ہلاک کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ زغری ریٹکلف کو 2016 میں ایرانی حکومت کی مخالفت میں ان کے مبیّنہ کردار پر چھے سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔انھیں رواں سال مارچ میں رہاکیا گیا تھا اور اس کے بعد وہ برطانیہ واپس چلی گئی تھیں۔

22سالہ مہسا امینی کو 13 ستمبر کو ایران کی اخلاقی پولیس نے ملک میں نافذالعمل سخت ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں تہران میں گرفتار کیا تھا۔وہ گرفتاری کے کچھ ہی دیر بعدکوما میں چلی گئی تھیں۔پھرانھیں اسپتال منتقل کیا گیا اور 16 ستمبر کو ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

سرگرم کارکنوں اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ امینی کو حراست کے دوران میں پولیس اہلکاروں نے ماراپیٹا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں اور اس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوئی تھی۔ تاہم پولیس ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

ان کی موت نے مظاہروں کی ایک لہر کو جنم دیا - 2019 میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ایران کی سڑکوں پر یہ سب سے بڑی عوامی احتجاجی مظاہرے ہیں اور ان میں خواتین بالخصوص پیش پیش ہیں۔دنیا بھرمیں خواتین سڑکوں اور سوشل میڈیا پر ایران میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت کر رہی ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ان مظاہروں کے دوران میں پولیس اور حکومت نواز ملیشیا کے ارکان سمیت 41 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے گروپوں کا خیال ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں