روس اور یوکرین

مغرب تنازعات کو ہوا دینا چاہتا ہے:ولادی میرپوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے صدر ولادی میرپوتین نے مغرب کو’’آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے علاقے میں نئے تنازعات کوہوا دینے کے منظرنامے پر کام کرنےپر تنقید کا نشانہ بنایا ہے‘‘۔ وہ جمعرات کے روز سابق سوویت ممالک کی انٹیلی جنس سروسز کے سربراہان سے ورچوئل بات چیت کررہے تھے۔

آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کی بنیاد 8 دسمبر 1991 کو رکھی گئی تھی ، اور یہ یو ایس ایس آر ، یا سابق سوویت یونین سے آزاد ہونے والی متعدد سابق جمہوریاؤں پر مشتمل ہے۔

ولادی میرپوتین نے کہا کہ ’’مغرب اجتماعی طور پر‘ان ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے جو ترقی کے خودمختار راستے کا انتخاب کرتے ہیں، ان لوگوں پر جو اطاعت نہیں کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

اس سے قبل جمعرات کو کریملن نے کہا تھا کہ یوکرین کے ان چارعلاقوں کو جمعہ کے روز ملک میں ضم کرلیا جائے گا جہاں روس میں شامل ہونے کے حق میں ووٹ ڈالے گئے تھے۔

توقع ہے کہ صدرپوتین اس ضمن میں کریملن میں ایک تقریب میں شرکت کریں گے۔اس میں یوکرین کے ان علاقوں کو باضابطہ طور پر روس میں شامل کیا جائے گا۔

یوکرین اور مغرب نے ان علاقوں میں ریفرنڈم کے انعقاد کو غیر قانونی قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے بھی روس کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور اس کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی ادارے کے منشور کے منافی قراردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں