نورڈ سٹریم گیس لیکج کے قریب روسی آبدوزیں دیکھی گئیں: مغربی انٹیلی جنس عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اس وقت میں جب روس اور مغرب کے درمیان بحیرہ بالٹک میں نورڈم سٹیرم گیس لائن ون اور ٹو میں ہونے والے اخراج کے بارے میں بات چیت ہو رہی تھی اور ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ ہو رہا تھاخ مبصرین کا خیال تھا کہ گیس لیکج کی وجہ معلوم کرنے مں طویل وقت لگے گا۔

تاہم اب مغربی انٹیلی جنس حکام اور واقعہ سے آگاہ ذرائع نے جمعرات کو تصدیق کردی کہ یورپی سکیورٹی حکام نے پیر اور اور منگل کے روز گیس اخراج کی جگہ کے قریب روسی بحریہ کے معاون بحری جہازوں کو دیکھا ہے۔ ذرائع نے کہا ہوسکتا ہے کہ گیس کا اخراج پانی کے اندر دھماکوں کی وجہ سے ہوا ہو۔

روسی آبدوزیں

ایک انٹیلی جنس عہدیدار نے بتایا کہ روسی آبدوزوں کو گزشتہ ہفتے آس پاس کے علاقے میں دیکھا گیا تھا۔ عہدیدار نے کہا بالخصوص حالیہ برسوں میں بالٹک سمندر میں روسی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ روسی آبدوزیں ہمیں ہر ہفتے نظر آتی ہیں۔

دوسری طرف ذرائع نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ان دھماکوں سے جہازوں کا کوئی تعلق تھا یا نہیں۔ تاہم دستیاب ڈیٹا کو بنیاد بنا کر اس کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ اس چیز کی تصدیق تفتیش کار ہی کر سکتے ہیں۔

دریں اثنا امریکی حکام نے اس مقام پر روسی جہازوں کی موجودگی کے متعلق اس انٹیلی جنس اطلاع پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

تخریب کاری

گزشتہ دو دنوں کے دوران کئی سیاسی عہدیداروں اور ماہرین نے کہا تھا کہ روس اور جرمنی کے درمیان نورڈ سٹریم 1 اور نورڈ سٹریم 2 پائپ لائنوں سے گیس کے رساؤ کے پیچھے تخریب کاری کی کارروائی ہے۔

کئی ماہرین نے کہا کے خطے میں موجود مختلف ملکوں کے فوجی دستے اس طرح کے آپریشن کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آزاد بحری تجزیہ کار ایچ آئی سیوٹن نے منگل کو ٹوئٹر پر کہا کہ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین نے بالٹک میں سمندری فرش سے نمٹنے کے لیے خصوصی انجینئرنگ کی صلاحیتوں والی جاسوس آبدوزیں تعینات کی تھیں۔ اگرچہ سابق سوویت بالٹک ریاستیں اب نیٹو سے منسوب ہو چکی ہیں تاہم روسی بحریہ کے پاس آج آرکٹک میں دنیا کا سب سے بڑا جاسوس آبدوزوں کا بیڑا موجود ہے۔

روسی مداخلت مشکل ہے

ایچ آئی سیوٹن نے مزید کہا کہ اگرچہ روس بالٹک سمندری میں پائپ لائن کو نقصان پہنچانے کے قابل ہے تاہم حالیہ گیس کے اخراج میں اس کی مداخلت کا امکان نظر نہیں آتا۔

برلن کی یونیورسٹی آف ہرٹی میں انرجی پالیسی کے پروفیسر لیون ہرتھ نے کہا کہ پانی کے نیچے 70 میٹر کی گہرائی میں پائپوں تک پہنچنا مشکل ہے۔ سمندر کی تہہ پر دو گیس پائپ لائنوں کو نقصان پہنچانا ایک بڑا واقعہ ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ اس کے پیچھے کوئی ریاستی کردار ہے۔انہوں نے واضح طور پر دہشت گرد یا مجرمانہ حملے کو مسترد کردیا۔

فرانس پریس ایجنسی کے مطابق ایک سینئر فرانسیسی فوجی عہدیدار نے کہا کہ جدید فوجوں کے لیے یہ علاقہ جیبی آبدوزوں کے لیے مثالی طور پر موزوں ہے۔ جیبی آبدوزیں چھوٹے سائز اور تھوڑے عملے کے ساتھ ہوتی ہیں اور اکثر جہاز سے لگائی جاتی ہیں ۔ ایجنسی فرانس پریس کے مطابق انہوں نے مزید کہا یہ بغیر پائلٹ چھوٹی آبدوزیں ایک آبدوز سے نکلتی ہیں ۔ بڑی آبدوز ہدف سے کئی سمندری میل کے فاصلے پر واقع ہوتی ہے۔ یہاں ہدف چونکے مقرر ہے دو دراز سے حملے کیلئے یہ عمل زیادہ پیچیدہ نہیں۔

فرانسیسی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ ایک مقررہ ہدف اس بات کا امکان بھی کم کردیتا ہے ٹار پیڈوں سے پائپ لائنوں کو ہٹ کیا جائے۔ ٹار پیڈوں عام طور پر حرکت پذیر اہداف پر حملہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق غوطہ خوروں کو عام طور پر بارودی مواد رکھنے کے لیے سمندر کی تہہ میں بھیجا جا سکتا ہے ۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ خود سے چلنے والی بارودی سرنگوں یا کنٹرول شدہ آبدوز کے ذریعے یہ کام انجام دیا جائے۔

خیال رہے گیس کا اخراج جنوبی سویڈن اور پولینڈ کے درمیان بحیرہ بالٹک میں ڈنمارک کے جزیرے بورن ہولم سے دور بین الاقوامی پانیوں میں ہوا ہے۔ یہ علاقہ طویل عرصہ سے دنیا میں سب سے زیادہ پانی والا ایسا ذخیرہ ہے جس کی نگرانی کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں