تقریبات میں شرکت کیلئے جبری شرائط: حوثیوں کے طالبات کو دبانے کے اوچھے ہتھکنڈے منکشف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن میں حوثی ملیشیا کے زیر تحت نام نہاد ’’ سابق گریجو ایٹس کلب‘‘ کی طلبہ کو دباؤ میں لانے کی سرگرمیاں منظر عام پر آنے سے غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حوثیوں کے نام نہاد طلبہ گروپوں کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس اور ہیش ٹیگس کی بھرمار ہوگئی ہے۔ سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں قائم کئے گئے حوثی کلب نے طلبہ کو زیر تحت لانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردئیے ہیں۔

گریجوایٹس کے اس کلب کو حوثی سیکورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسی کی طرف سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔۔ یہ کلب طلبہ کی آزادیوں کو دبانے ، بندوق کی نوک پر ان سے رقم لوٹنے اور اپنی سرگرمیوں میں انہیں زبردستی شریک کرنے کی کارروائیوں میں شریک ہے۔

پارٹیوں کیلئے بھتہ وصولی

اس کلب نے ایک سخت ضابطہ جاری کیا تھا جس کے تحت طلبہ کو گریجوایشن کی تقریبات کو فرقہ وارانہ انداز میں منعقد کرنے کے لیے رقم ادا کرنے کا کہا گیا تھا۔ طلبہ کو لباس، تصاویر، موسیقی اور کنسرٹ کے پروگراموں اور پیراگراف میں خوشی کے اظہار سے بھی روکا گیا تھا۔

تعلیم کا غلبہ

اسی تناظر میں بعض یمنی طلبہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حوثیوں کی اتھارٹی نے جاہلانہ اور سکیورٹی کے نام پر کئے گئے اقدامات کے ذریعہ تعلیمی برادری کی سرگرمیوں، تعلیمی عمل اور اعلی تعلیم کے شبعوں پر قبضہ جما لیا ہے۔

حوثیوں ملیشیا نے یونیورسٹی کے تمام فیکلٹیز اور ڈیپارٹمنٹس میں اپنے ارکان کو بھری کرکے اپنا مکمل رسوخ جما لیا ہے۔

طلبہ نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کے سابق طلبا کلب نے یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد کے خلاف جابرانہ اور رجعتی طرز عمل کا ارتکاب کیا ۔

یونیورسٹی طلبہ پر اپنا اثر و رسوخ مسلط کیا اور گریجوایشن کی تقریبات میں مداخلت کرکے من مانی تبدیلیاں کرائیں۔ نئے گریجوایٹس پر اپنا پروگرام اس حد تک تھوپ دیا گیا کہ نیل پالش کے رنگ سے لیکر لباس کی قسم اور کنسرٹ میں بولے جانے والے پیراگراف تک میں رد و بدل کرایا گیا۔

لڑکیاں زیادہ زیر عتاب

حوثی ملیشیا کے زیر تسلط گروپ نے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں پر اپنی مرضی مسلط کی۔ تاہم اس حوالے سے طالبات کوزیادہ پریشان کردیا گیا۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ارویٰ عامر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انکشاف کیا کہ "الومنائی کلب لباس کی لمبائی، اس کی رنگت کا جائزہ لینے سے پہلے کسی بھی گریجوایشن تقریب کے انعقاد کی منظوری نہیں دیتا۔ عبایا اور جوتوں کی شکل تک کا تعین کلب کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

ارویٰ نے کہا حوثیوں نے طالبات پر جوتے

اس نے نشاندہی کی کہ "انہوں نے کھلے انداز کے جوتوں پر پابندی لگا دی، اور انہوں نے گریجوایشن تقریب کی تصاویر میں موجود طالبات کے چہروں اور ہاتھوں کو مٹا دیا۔

ایک اور گریجوایٹ علا سالمی نے کہا حوثی گروپ احمقانہ د تک ایرانی تجربے کو یہاں لاگو کرنا چاہتا اور یمنی عوام پر ایک نئی شناخت مسلط کر رہا ہے۔

طلبا ، سماجی کارکنوں اور معاشرے کی بااثر شخصیات نے اس کلب کی جانب سے جاری جابرانہ ہدایات پر مبنی دستاویز کو سوشل میڈیا پھر شیئر کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں