ایران: مہسا امینی کی موت کے خلاف احتجاج کا تیسراہفتہ، ملک بھرمیں مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران میں پولیس کے زیرحراست نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی تحریک تیسرے ہفتے میں داخل ہوگئی ہے۔ ہفتے کے روز ملک بھرمیں مظاہرین نے ریلیاں نکالی ہیں اورکرد علاقے سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ایرانی کردستان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہرے 2019 کے بعد سے ایران کے مذہبی حکام کی مخالفت میں سب سے بڑی تحریک بن چکے ہیں۔ملک بھرمیں بدامنی کے واقعات میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہفتے کے روز لندن، پیرس اور دیگر مقامات پر لوگوں نے ایرانی مظاہرین کے ساتھ اظہاریک جہتی کے لیے مظاہرے کیے۔ان میں سے بعض نے امینی کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔انھیں ایران کی اخلاقی کی پولیس نے 13ستمبر کو 'نامناسب لباس' پہننے کی پاداش میں گرفتار کیا تھا اور اس کے تین روز بعد وہ پولیس ہی کی تحویل میں ہلاک ہوگئی تھیں۔

ایران میں سوشل میڈیا پر پوسٹوں میں تہران، اصفہان، راشت اور شیراز سمیت بڑے شہروں میں ریلیاں دکھائی گئی ہیں۔تہران کے روایتی کاروباری مرکز بازار میں حکومت مخالف مظاہرین نے نعرے لگائے کہ ’’اگر ہم متحد نہیں ہوئے تو ہمیں ایک ایک کر کے ہلاک کر دیا جائے گا'، جبکہ دارالحکومت میں دوسری جگہوں پرانھوں سے باڑ کے ساتھ ایک مرکزی شاہرہ کو بلاک کردیا۔

طلبہ نے متعدد یونیورسٹیوں میں بھی مظاہرے کیے۔ پولیس نے جامعہ تہران میں درجنوں افراد کو حراست میں لے لیاہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو یونیورسٹی کے قریب ایک چوک سے گرفتار کیا گیا ہے۔

ایک صارف نے جامعہ اصفہان کے دروازوں پربنائی گئی ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی ہے۔اس میں گولیاں چلنے کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔ ایک اور ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ یونیورسٹی پرآنسو گیس کے گولے داغے جا رہے ہیں اور اس سے لوگوں کے ایک گروپ کو منتشر کردیا گیا ہے۔

یہ احتجاج 17 ستمبر کو امینی کے جنازے سے شروع ہوا تھا اور ایران کے 31 صوبوں میں پھیل گیا تھا۔اس میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات حصہ لے رہے ہیں اور بہت سے لوگ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف ’’مرگ برآمر‘‘ کے نعرے لگاتے سنائی دیے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اب تک 52 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے درجنوں کارکنوں، طالب علموں اور فنکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ادھر لندن میں قریباً 2500 افراد نے ٹرافلگراسکوائر پر ایرانی جھنڈے لہراتے ہوئے مظاہرہ کیا۔زیادہ تر ایرانیوں پرمشتمل ہجوم میں سے بعض خواتین ہی نے کیمرے پرانٹرویو دینے سے اتفاق کیا۔دیگر نے حکام کی طرف سے شناخت اور انتقامی کارروائی کے خوف سے کیمرے پر گفتگو سے گریز کیا۔

پیرس کے وسطی علاقے میں کئی درجن افراد کا ہجوم ایرانی مظاہرین کی حمایت میں جمع ہوا۔انھوں نے ایرانی جھنڈے اور مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تصاویراٹھا رکھی تھیں۔

زاہدان میں حملہ

ایرانی حکام کا کہناہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں سکیورٹی فورسز کے متعدد ارکان ہلاک ہو چکے ہیں ۔انھوں نے امریکا پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ایران کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بدامنی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ سرکاری میڈیا نے مظاہرین کو فسادی اورباغی قرار دیا ہے۔

دریں اثناء ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جمعہ کوجنوب مشرقی صوبہ سیستان و بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں حملوں میں اس کی فورسز اور رضاکار بسیج ملیشیا کے چارارکان ہلاک ہو گئے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق زاہدان میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پولیس اسٹیشن پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے ارکان سمیت 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی نے ان کاانتقام لینے کا عہد کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کو’بلیک فرائیڈے کے شہداء‘ قراردیا۔

ایک نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق زاہدان سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز نے بتایا کہ ہفتے کے روز شہر میں سیکیورٹی بحال کر دی گئی ہے۔

حکام نے زاہدان میں فائرنگ کاالزام بلوچی اقلیت سے تعلق رکھنے والے علاحدگی پسند گروپ پرعاید کیا ہے۔ سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اس گروپ سے تعلق رکھنے والے دو اہم جنگجو مارے گئے ہیں۔

ارنا نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں تباہ شدہ کاریں، ایک الٹنے والا اور جلتا ہوا ٹریلر یا بس اور جلی ہوئی عمارتوں اور دکانوں میں لگی ہوئی آگ کو دکھایا گیا ہے اور اسے’’زاہدان میں گذشتہ رات دہشت گردوں نے لوگوں کی دکانوں کے ساتھ کیا کیا‘‘کی فوٹیج قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں