کابل میں اقلیتی ہزارہ برادری پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جمعہ کو کابل میں ایک تعلیمی مرکز پر خودکش حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ یہ تعلیمی ادارہ ایسے محلے میں تھا جہاں شیعہ ہزارہ اقلیت کے طلبہ رہتے تھے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کابل کے شیعہ ہزارہ برادری کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس محلہ دشت البرشی میں اس سے قبل بھی کئی دھماکے کئے گئے ہیں۔ جمعہ کو ہونے والے حالیہ حملے کی عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے۔

جمعہ کے دھماکے سے متعلق بات کرتے ہوئے کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ طلبہ امتحان کی تیاری کر رہے تھے جب ایک خودکش بمبار نے اس تعلیمی مرکز میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے کہا کہ اس کے پاس موجود معلومات کے مطابق کم از کم 24 افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے ہیں ۔ جائے وقوعہ پر موجود ایک طالب علم نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ متاثرین کی اکثریت لڑکیوں کی تھی۔ طالب علم نے مزید کہا اس کوالیفائنگ سینٹر میں تقریباً 600 لوگ موجود تھے۔ یہ مرکز 18 سال سے زائد عمر کے طلبہ کو یونیورسٹی کے داخلے کے امتحانات کے لیے تیار کرتا ہے۔

غیر سرکاری تنظیم "ایمرجنسی" جس نے اپنے ہسپتال میں 20 خواتین سمیت متاثرین میں سے 22 کو وصول کیا نے بتایا کہ ، ان کی عمریں 18 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔

افغانستان میں تعلیم ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، یہاں طالبان بہت سی لڑکیوں کو ثانوی تعلیم حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ اسی طرح داعش خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کی بھی مخالفت کرتی ہے۔

ایک ہسپتال میں طالبان نے ہجوم کے درمیان دوبارہ نئے حملے کے خوف سے متاثرین کے اہل خانہ کو مجمع ختم کرنے کی ہدایت کی ۔ وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالنافی نے کہا کہ شہری اہداف پر حملہ دشمن کے غیر انسانی سلوک اور بربریت اور اس کے اخلاقیات سے عاری ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہزارہ اور شیعوں پر حملے بند ہونے چاہئیں۔ افغانستان کے مستقبل پر حملے بند کیے جائیں۔ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے اپنی ٹویٹ میں حملے کو "دل دہلا دینے والا" قرار دیا اور کہا معصوم طلبہ پر حملے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یاد رہے 20 اپریل کو اسی محلے دشت البرشی میں لڑکوں کے ایک سکول پر دو دھماکے کئے گئے جس میں 6 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے تھے۔ دشت البرشی محلے میں ہی مئی 2021 میں لڑکیوں کے سکول کے سامنے سلسلہ وار بم دھماکے کئے گئے تھے، ان بم دھماکوں میں 85 افراد ہلاک اور 300 زخمی ہوگئے تھے۔ اس وقت بھی متاثرین میں زیادہ تر طالبات شامل تھیں۔ دشت البرشی نے نومبر اور دسمبر 2021 میں داعش الخراسان کے مزید حملوں کا بھی سامنا کیا تھا۔ اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی سے ملک میں دو دہائیوں سے جاری جنگ ختم ہوئی تو تشدد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی لیکن حالیہ مہینوں میں پر تشدد کارروائیاں پھر بڑھ گئی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ حملہ افغان عوام کے تحفظ میں طالبان کی نااہلی اور ناکامی کی شرمناک یاد دہانی ہے۔ افغان شہریوں خاص طور پر اقلیتی ارکان کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ کابل دھماکے پر رد عمل دیتے ہوئے یورپی یونین نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ایک بار پھردہشت گردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے ہم اس نئے گھناؤنے جرم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں