روس اور یوکرین

یوکرینی علاقوں میں روسی ریفرنڈم، امریکہ نے روس پر نئی پابندیاں لگا دیں

روسی شخصیات، حکام اور اداروں کے علاوہ چینی کمپنی بھی امریکی پابندیاں عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرین کے چار علاقوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے اپنا حصہ بنانے کے لیے کرائے ریفرنڈم کو ہم نہیں مانتے اور اس روسی اقدام کے باعث روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا 'ہم دھوکہ بازی کے ساتھ یوکرینی علاقوں کو روس میں شامل کرنے والے پیوٹن کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے۔' واضح رہے روسی صدر نے جمعہ کے روز یوکرین علاقوں کو روس کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

اس روسی اقدام کے خلاف امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ پابندیاں روس سے باہر بھی ہر اس شخص پر بھی ہوں گی جو روس کو اس سلسلے میں تعاون فراہم کرے گا اور سیاسی یا معاشی مدد دے گا۔

جمعہ کے روز امریکی وزارت خزانہ کے اعلان میں کہا گیا 'ان پابندیوں کا اطلاق روسی فوجی صنعتی کے 14 افراد، ان کے اہل خندان اور سینئیر روسی حکام پر ہوگا، روسی قانون ساز ادارے کے 278 ارکان پر یہ پابندیاں عائد ہوں گی۔ نیز روسی مالیاتی شعبے کی تین اہم شخصیات ان کی پابندیوں کا نشانہ بنیں گے۔

یہ زور دے کر امریکی وزیر خزانہ جنیٹ ییلن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ 'ہم پوتن کے فراڈ کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔ جس نے یوکرین کے علاقوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔' اس لیے ہم روسی فوجی صنعت کو مزید کمزور کرنے کے لیے یہ اعلان کر رہے ہیں۔ '

امریکی وزارت خزانہ کے ذیلی شعبے جو غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کا ذمہ دار ہے روسی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے 278 ارکان کو بھی ان پابندیوں کی زد میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں ڈوما کہ 109 ارکان جبکہ فیڈرل کونسل کے 169 ارکان بھی شامل ہیں۔ اسی روسی سنٹرل بنک کے گورنر پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

علاوہ ازیں امریکی پابندیوں کی اس تازہ قسط کی زد میں چینی کمپنی بھی آئی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چینی کمپنی روس کی دفاعی صنعت کی مدد کر رہی تھی، حالانکہ امریکہ نے اس پر پابندیاں کر رکھی ہیں۔ روسی نائب وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے علاوہ روسی قومی سلامتی کونسل کے حکام پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔

وزارت خزانہ نے روس کے خلاف نئی پابندیوں کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی اتحادی امریکی پابندیوں کا شکار ہونے والے روسی افراد اور اداروں کے خلاف فوری اور موثر اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔

دریں اثنا امریکہ نے یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ وہ 910 روسی حکام اور افراد پر امریکی ویزوں کے حصول کے لیے پابندی لگا رہے ہیں۔ ان میں روسی فوجی حکام کے علاوہ بیلا روس کے فوجی حکام بھی شامل ہیں، نیز تمام روسی پراکسیز کے ارکان بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں