روس اور یوکرین

یوکرین کے علاقوں کے روس سے الحاق پرخاموش تماشائی نہیں رہیں گے: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی صدر ولادیمیر پوتین کی طرف سے جمعہ کو کریملن میں منعقدہ ایک عظیم الشان تقریب کے دوران روسی افواج کے زیر کنٹرول یوکرینی کے چار علاقوں لوگانسک، ڈونیٹسک، کھیرسن اور زپوریزیا کے روس سے الحاق پر یورپی ممالک کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

یورپی یونین نے کریملن پر عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے یوکرین کے علاقوں کے الحاق کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

مزید برآں 27 ممالک کے رہ نماؤں نے ایک بیان میں زور دیا ہے کہ یوکرین کے علاقوں کے روس کے ساتھ الحاق کی ہرسطح پر مذمت کی جائے گی اور یورپی ممالک ماسکو کے اس اقدام پر خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔

العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں یورپی یونین کے ترجمان لوئی میگوئل بیونو نے اس بات پر زور دیا کہ براعظم کے ممالک روس کے یوکرینی سرزمین کے الحاق کو تسلیم نہ کرنے کی پر متفق ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے اور نہ ہی تبدیل ہوگا۔ انہوں نے دنیا کے تمام ممالک سے یوکرینی علاقوں کے روس کے ساتھ الحاق کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔

درایں اثنا یورپی کونسل نے یوکرین کے علاقوں کے روس سے الحاق کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کوئی قانونی اثر نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یوکرین کو اپنی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر اپنی "مقبوضہ" زمینوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا حق ہے۔

بین الاقوامی مذمت

فرانس جرمنی، برطانیہ، یونان اور ہالینڈ نے الگ الگ بیانات میں روسی اقدام کی مذمت کی ہے۔ لندن نے روسی سفیر کو طلب کیا اور اسے الحاق کے خلاف احتجاجی مراسلہ سونپا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن کبھی بھی روس کے یوکرینی علاقے کے الحاق کو تسلیم نہیں کرے گا۔

جمعے کے روز ایک بیان میں، سات ممالک کے گروپ کے وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اس فورم کے ممالک روس کی جانب سے یوکرین کی زمینوں پر کیے جانے والے "مبینہ الحاق کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔"

وزراء خارجہ نے کہا کہ ہم متفقہ طور پر یوکرین کے خلاف روس کی جارحانہ جنگ اور روس کی طرف سے یوکرین کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی مسلسل خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں