ترک فوج نے عراق اور شام میں پی کے کے 30 ارکان کوموت کی نیند سلادیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی نے عراق اور شام میں سرحد پار سے الگ الگ کارروائیوں میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے قریباً 30 ارکان کو ہلاک کردیا ہے۔

ترک وزارت دفاع نے اتوار کو ایک بیان میں کردباغیوں کے خلاف کارروائی میں عام طور پر استعمال کی جانے والی اصطلاح کی ہے اور کہا ہے انھیں’بے اثر‘کردیا گیا ہے۔

ترک فوج نے شمالی عراق میں 140 کلومیٹر (90 میل) کے فاصلے پر واقع اسوس کے علاقے میں فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں پی کے کے پی کے 23 ارکان ہلاک ہوئے ہیں اور شمالی شام میں مزید سات افراد ایک اور حملے میں مارے گئے ہیں۔

ترکی ہمسایہ ملک عراق اور شام میں موجود پی کے کے عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائی کے حصے کے طور پر باقاعدگی سے سرحد پار فضائی حملے کرتا رہتا ہے اوراکثر کردباغیوں کے ٹھکانوں کو مسلح ڈرونز سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

پی کے کے نے 1984 میں ترک ریاست کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا تھا اور اس کے نتیجے میں مسلح تنازع میں اب تک 40،000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ پی کے کے کو ترکی، امریکا اور یورپی یونین نے ایک دہشت گرد گروہ قرار دے رکھا ہے۔

ترک حکومت نے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ اتوار کے روز شمالی شام میں پی کے کے ایک حملے میں ترکی کی خصوصی فورسز کا ایک افسر بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

ترک وزیر دفاع حلوسی عکار نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ فوج نے اس ہفتے اسوس کے اسی حصے میں فضائی حملوں میں 16 اہداف کو نشانہ بنایا تھا جسے ہفتے کے آخر میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں