منجمد اثاثوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی: امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تہران نے ایرانی نژاد امریکی تاجر سیامک نمازی کوایک ہفتے کے لئے جیل سے باہر جا کر اپنے والد باقر نمازی کے ساتھ وقت گزارنے اور باقر کو بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی اور اب امریکی پابندیوں کے باعث منجمد کئے گئے ایرانی اربوں ڈالر اثاثے جلد جاری کئے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایرانی نور نیوز ایجنسی کے مطابق میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خطے کے ایک ملک نے قیدیوں بیک وقت رہائی کے لئے ایران اور امریکہ کےدرمیان ثالثی کرائی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی اور امریکی قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک علاقائی ملک کی ثالثی میں گہری بات چیت ہوئی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ "ہمیں آج اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ ایران نے باقر نمازی پر عائد سفری پابندی ہٹا دی ہے۔"

پرائس نے مزید کہا کہ محکمہ خارجہ شکر گزار ہے کہ سیاماک نمازی کو انسانی بنیادوں پر اپنے والد باقر کے ساتھ رہنے کے لیے اجازت دی گئی ہے۔

دائیں: سیاماک نمازی، بائیں: باقر نمازی
دائیں: سیاماک نمازی، بائیں: باقر نمازی

خیال رہے ایران نے 2016 میں 85 سالہ باقر نمازی کو ایک دشمن حکومت کے ساتھ تعاون کا مجرم قرار دیا اور 10 سال قید کی سزا دی تھی۔ ایرانی حکام نے 2018 میں باقر کو طبی بینادوں پر رہا کیا اور 2020 میں اس کا مقدمہ بند کردیا اور اس کی سزا کو بھی جیل میں گزارے گئے وقت تک محدود کردیا تھا۔ تاہم ایران نے باقر کے ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی تھی۔

باقر کا 51 سالہ بیٹا سیامک 2015 سے جیل میں ہے ۔ اسے بھی 2016 میں والد کی طرح کی سزا سنائی گئی ۔ اس وقت امریکہ نے دونوں پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

خاندان کی نمائندگی کرنے والے بیٹے کے وکیل نے رائٹرز کو بتایا ’’میں نمازی کے خاندان کے لیے بہت خوش ہوں، کیونکہ سیامک نمازی 7 سالوں میں پہلی مرتبہ اپنے گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ سوئیں گے‘‘۔

دونوں ممالک کے قیدی

خیال رہے کہ مہینوں پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان غیر معمولی قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مشترکہ حل تک پہنچنے کی کوشش شروع کی گئی تھی۔ یہ مذاکرات بالواسطہ تھےاور 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کے لیے ہوئے تھے۔

اعداد وشمار کے مطابق 16 ایرانی امریکہ میں قید ہیں یا انہیں وفاقی جرائم کے ثابت ہونے پر مقدمہ سے پہلے ہی رہا کر دیا گیا۔

دوسری طرف دوہری شہریت کے حامل 4 ایرانی نژاد امریکیوں کو ایران میں رکھا گیا ہے یا انہیں سیکورٹی کے جرائم کے الزام میں ملک چھوڑنے سے روکا گیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے ان افراد کو اس لئے روک رکھا ہے کہ انہیں امریکیوں سے سودے بازی کیلئے استعمال کیا جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ ان ایرانی نژاد امریکیوں کی شہریت کو تہران تسلیم نہیں کرتا اور یہی ایرانی نژاد امریکی دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات میں یرغمالیوں کی طرح ہوتے ہیں۔

سخت سزائیں

متعدد ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے اربوں ڈالر بیرون ملک منجمد ہیں۔ ایران کے یہ ڈالر چین، بھارت ، جنوبی کوریا، عراق اور جاپان اور دیگر ملکوں میں پڑے ہیں۔

کئی ماہ قبل تہران نے ان اثاثوں کو جاری کرانے کیلئے مذاکرات کا قدم اٹھایا تھا کیونکہ اسے اپنی کرنسی کے خاتمے اور امریکی پابندیوں کے باعث معیشت کی مکمل ناکہ بندی اور زرمبادلہ کی شدید کمی کا سامنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں