ایران مظاہرے

ایرانی سپریم لیڈرنے سکیورٹی فورسز کی حمایت کردی،احتجاج کو’منصوبہ بند‘قراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک گیرمظاہروں کا مقابلہ کرنے والی سکیورٹی فورسز کی بھرپورحمایت کردی ہے اور کہا ہے پولیس حراست میں نوجوان خاتون کی ہلاکت کے بعد بھڑکنے والے مظاہرے منصوبہ بند تھےاور یہ عام ایرانیوں کے اقدامات نہیں۔

رہبراعلیٰ علی خامنہ ای نے ایران میں دو ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری بدامنی پرسوموار کو اپنے پہلے تبصرے میں کہا کہ’’22 سالہ مہسا امینی کی موت نے میرا دل توڑ دیا ہے اوریہ ایک ’’تلخ واقعہ‘‘تھا۔

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’کچھ لوگوں نے سڑکوں پرامن وامان کا مسئلہ پیدا کیا ہے‘‘۔انھوں نے مظاہروں کومنصوبہ بند ’’فسادات‘‘ کے طور پر بیان کیا، اور ایران کے کٹر مخالفین امریکا اوراسرائیل پران مظاہروں کی کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’پولیس سمیت ہماری سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری ایرانی قوم کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ جو لوگ پولیس پر حملہ کرتے ہیں وہ ایرانی شہریوں کو ٹھگوں، ڈاکوؤں اور بھتاخوروں کے خلاف بے بس چھوڑ رہے ہیں‘‘۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق پولیس اور رضاکار بسیج ملیشیا سمیت سکیورٹی فورسز مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کی قیادت کررہی ہیں۔ان میں 130 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں اورملک بھر میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایرانی حکام نے بدامنی کے دوران میں سکیورٹی فورسزکے بہت سے ارکان کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے ۔یہ احتجاجی تحریک گذشتہ چارسال میں ایران کی شیعہ علماء کی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کا سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔

خامنہ ای نے کہا کہ مظاہروں کے دوران میں سکیورٹی فورسز کو’ناانصافی‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حالیہ واقعات میں، یہ پولیس اور بسیج سمیت تمام سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ ایران کے عوام سے بھی ناانصافی کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں