ایران مظاہرے

ایران کی بڑی جامعہ میں طلبہ اور سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں کے بعدکلاسیں معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے دارالحکومت تہران میں واقع معروف ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں طلبہ اور سکیورٹی فورسز کے درمیان رات بھر ہونے والی جھڑپوں کے بعد سوموار کو کلاسوں کومعطل کردیا گیا ہے اورانھیں آن لائن منتقل کردیا گیا ہے۔

جامعہ شریف برائے ٹیکنالوجی نے اعلان کیا کہ حالیہ واقعات اور طلبہ کے تحفظ کی ضرورت کے پیش نظر پیر سے تمام کلاسوں کا ورچوئل انعقاد کیا جائے گا۔

ایران کی نیم سرکاری مہرنیوزایجنسی نے بتایا کہ اتوار کی سہ پہرسے قریباً 200 طلبہ یونیورسٹی میں جمع ہوئے تھے اورانھوں نے ایران کےمذہبی حکام کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔

خبررساں ادارے کے مطابق طلبہ:'عورت، زندگی، آزادی' کے عنوان سے احتجاج کررہے تھے اور یہ نعرے بازی کررہے تھے کہ’طالب علم ذلت کے بجائے موت کو ترجیح دیتے ہیں‘۔

مہر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے طلبہ پرآنسو گیس اور پینٹ کے گولے داغے۔نیزسکیورٹی فورسز نے یونیورسٹی کے شمالی گیٹ کے باہرغیرمہلک اسٹیل پیلٹ فائر کیے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر سائنس بعد میں صورت حال کو پرامن رکھنے کے لیے طلبہ سے بات کرنے کی غرض سے کیمپس میں آئے تھے۔

ایران بھر میں 22 سالہ کرد ایرانی مہسا امینی کی اخلاقی پولیس گشت ارشاد کے زیرحراست ہلاکت کے بعد سے مظاہرے جاری ہیں اور یہ تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکے ہیں۔انھیں 13 ستمبر کو ملک میں نافذ خواتین کے لیے سخت ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اورتین روز بھی پولیس ہی کی تحویل میں ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

اس احتجاجی کی لہر کے دوران میں 130 سے زیادہ مظاہرین ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیاجاچکا ہے۔ بدامنی کے واقعات میں ایرانی سکیورٹی فورسز کے بعض اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں