بورکینافاسو:مذہبی قائدین سے مذاکرات کے بعدجنتا لیڈر دمیبا مستعفی ہونے پر رضامند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بورکینا فاسو کی جنتا کے رہ نما پال ہنری سینڈوگو دمیبا نے اتوار کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔انھیں دو روز قبل فوجی افسروں نے اقتدار سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔

مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے نئے خود ساختہ رہ نما ابراہیم ترورے اور دمیبا کے درمیان ثالثی کی بات چیت کی ہے جس کے بعددمیبا خود ہی اپنے استعفے کی پیش کش کی ہے تاکہ سنگین انسانی اور مادی نتائج کے حامل ممکنہ تصادم سے بچا جاسکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ دمیبا نے عہدہ چھوڑنے کی ’’سات شرائط‘‘ مقررکی ہیں۔ان میں فوج میں اپنے اتحادیوں کی حفاظت کی ضمانت اوران کی اپنی سلامتی اور حقوق کی ضمانت شامل ہے اور یہ کہ اقتدار سنبھالنے والوں کو اس ضمانت کا احترام کرنا چاہیے جو انھوں نے مغربی افریقا کی ریاستوں کی اقتصادی برادری (ای سی او ڈبلیو اے ایس) کو دو سال کے اندر سویلین حکمرانی کی واپسی کے لیے دی تھی۔

بورکینا فاسو میں بہت بااثر مذہبی اور کمیونٹی رہنماؤں نے کہا کہ ترورے نے ان شرائط کو تسلیم کیا ہے۔انھوں نے آبادی کو امن وسکون اور ضبط و تحمل کی دعا کی دعوت دی۔

بورکینا فاسو کے فوجی افسروں نے جمعہ کو یہ اعلان کیا تھا کہ انھوں نے دمیبا کوان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔اس کے بعد سے مغربی افریقا میں واقع اس ملک میں سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔وہ خود جنوری میں ایک بغاوت کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔اس سے قبل دمیبا نے واضح کیا تھا کہ ان کا عہدہ چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

بورکینا فاسو کے دارالحکومت بورکینا فاسو میں فرانسیسی سفارت خانے کے باہر مشتعل مظاہرین نے احتجاج کیا ہے۔انھیں منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے ہیں۔

ترورے کی حامی فوج نے اتوار کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی غیرمتعینہ تاریخ کو بورکینا فاسو کے صدر کی حلف برداری تک عہدے پر برقراررہیں گے اورانھیں ملک کی فعال افواج کی طرف سے نامزد کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں