ترکی اورلیبیاکی حکومت کے درمیان سمندری توانائی کے ابتدائی معاہدے پراتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیاکی طرابلس میں قائم حکومت نے ترکی کے ساتھ متعدد ابتدائی اقتصادی معاہدوں پردست خط کیے ہیں۔ان میں سمندری علاقوں میں توانائی کی ممکنہ تلاش بھی شامل ہے جبکہ لیبیا کی مشرقی پارلیمان نے اس اقدام کومسترد کردیا ہے۔

طرابلس میں سوموار کومنعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیرخارجہ مولود چاوش اوغلو اور لیبیا کی وزیرخارجہ نجلہ المنقوش نے کہاکہ نے دونوں ممالک کے مفاد میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دست خط کیے گئے ہیں۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ آیا طے پانے والے کسی بھی حتمی معاہدے میں ’’خصوصی اقتصادی زون‘‘ میں گیس کی تلاش شامل ہوگی جس پر ترکی اور طرابلس کی سابقہ حکومت نے 2019 میں اتفاق کیا تھا۔اس پر بحر متوسط (بحیرہ روم) کے مشرق میں واقع دیگر ریاستوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

اس زون میں دونوں ممالک کی سمندری سرحد کا اشتراک کرنے کا تصور کیا گیا تھا لیکن یونان اور قبرص نے اس پر کڑی نکتہ چینی کی تھی اور مصر اور اسرائیل نے بھی اس پر تنقید کی تھی۔

چاوش اوغلو سے جب پوچھا گیا کہ کیا دیگرممالک مفاہمت کی نئی یادداشت پر اعتراض کر سکتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیا سوچتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ کسی تیسرے ملک کو اس معاملے میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔

ترکی وزیراعظم عبد الحمیدالدبیبہ کے تحت طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت (جی این یو) کا ایک اہم حامی رہا ہے جبکہ لیبیا کی پارلیمنٹ اس کی قانونی حیثیت سے اختلاف رکھتی ہے اور وہ متبادل انتظامیہ کی حمایت کرتی ہے۔

مصر کے اتحادی سمجھے جانے والے لیبی پارلیمان کے اسپیکر عقیلہ صالح نے کہا کہ مفاہمت کی یادداشت غیر قانونی ہے کیونکہ اس پر ایک ایسی حکومت نے دست خط کیے تھے جس کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ لیبیا کے متحارب دھڑوں میں طرابلس کی مرکزی حکومت پرکنٹرول کے معاملے پر سیاسی تعطل برقرارہے،اس نے لیبیا میں قومی انتخابات کے انعقاد کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے اور ملک کے دوبارہ تنازعات کی نذر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں