یمن اور حوثی

جنگ بندی ختم ہونے کے بعد حوثی ملیشیا کا یمنی فوج کے ٹھکانوں پر حملہ

فریقین میعاد ختم ہونے کے بعد جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے تک پہنچنے میں ناکام ہوگئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کی شام ایک یمنی فوجی عہدیدار نے تصدیق کی کہ حوثی گروپ نے یمن کے جنوب مغربی صوبہ تعز میں فوج کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔

تعز محور کےترجمان عبدالباسط بحر نے یمنی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ حوثی گروپ نے دراندازی کی کوشش کے دوران توپ خانے، درمیانے اور بھارتی ہتھیارو ں اور مارٹر گولوں سے تعز شہر کےشمال، مغرب اور مشرق میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق فوجی دستوں نے حوثیوں کو پسپا کردیا اور انہیں بڑا نقصان پہنچایا ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے اتوار کو ختم ہونے والے جنگ بندی معاہدہ میں توسیع نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے فریقین سے پرامن رہنے اور کشیدگی بڑھانے والے کسی بھی اقدام سے باز رہنے کی اپیل کی تھی۔

ایک بیان میں گرنڈبرگ نے کہا یمن کے تمام فریق پرسکون رہیں اور تشدد کی کسی بھی کارروائی سے بچیں۔

اقوام متحدہ کے ایلچی نے یمنی حکومت کی جانب سے امن کی اپنی تجویز کو مثبت طور پر لینے کے بیان کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

ایلچی نےکہا وہ فریقین کے ساتھ ملکر حل کی تلاش میں کام کرتے رہیں گے اور یمن میں جنگ بندی اور امن کے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

جنگ بندی 2 اپریل کو نافذ کی گئی تھی اور متعدد توسیعات کے بعد 2 اکتوبر تک جاری رہی۔

قبل ازیں العربیہ اور الحدث کو انٹرویو دیتے ہوئے یمنی وزیر خارجہ احمد عواد بن مبارک نے کہا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع سے انکار پر حیران نہیں ہوں۔ انہوں نے جنگ بندی کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی اور قوم کے مفادات کو پس پشت ڈالا ہے۔

ہم نے یمنی عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ہم نے عوام کے فائدہ کے لیے جنگ بندی میں توسیع کے لیے رعایتیں دی ہیں۔

یمنی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ حوثیوں نے جنگ بندی کے دوران 200 بلین یمنی ریال سے زیادہ جمع کر لئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں