حوثیوں کو دوبارہ دہشت گرد گروپ قرار دینا فوری ضرورت بن گئی ہے: وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی لیڈر شپ کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے حوثیوں کو جنگ بندی میں توسیع نہ کرنے اور یمن کی سلامتی اور استحکام پر اس کے سنگین اثرات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

یمنی وزیر خارجہ احمد عواد بن مبارک نے کہا کہ حوثیوں کو دہشت گرد گروپ کے طور پر دوبارہ درجہ بندی کرنا ایک فوری مطالبہ بن گیا ہے۔

دریں اثنا یمنی حکومت کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا کی غلطیاں اور طرز عمل جنگ بندی کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ ذریعے نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حوثی ملیشیا نے 2019 میں حُدیدہ معاہدے کے بعد سے 60 ارب ریال سے زیادہ کی رقم لوٹ لی۔

یمنی وزیر اعظم معین عبدالملک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کی جانب سے ملک میں امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی مذمت میں ایک مضبوط اور واضح موقف اختیار کرے۔

یمنی وزیر اعظم نے اپنے ٹوئٹر پیج پر سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا کہ ’’خوش کرنے کی پالیسی امن کے امکانات کو نہیں بڑھاتی ہے اور صرف حوثیوں کو مزید فساد کی طرف دھکیلتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ"ہم نے بین الاقوامی برادری کی امن کی پکار میں واضح آواز سنی ہے اور ہم نے پورے خلوص کے ساتھ اس کال کا جواب دیا ہے۔ ہم آج انتظار کر رہے ہیں کہ حوثیوں کی رکاوٹوں اور امن مساعی کو مسترد کرنے کی مذمت کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں