لیبیا اور ترکیہ کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں کو پارلیمنٹ نے چیلنج کر دیا

حکومت کو مینڈیٹ حاصل نہیں ہے۔ سپیکر عقیلا صالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا اور ترکیہ کے درمیان سمندرابتدائی نوعیت کے اقتصادی معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد سمندر سے متعلق توانائی کے ذخائر کی دریافت کے سلسلے میں دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانا ہے۔ تاہم لبیا کی شرقی پارلیمنٹ نے ان ابتدائی معاہدوں کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوغلو اور لبیا کے وزیر خارجہ نجلا منجوش نے طرابلس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ملکوں نے مفااہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ان نئے معاہدوں کے دائرے میں اقتصادی زون بھی شامل ہے یا نہین جس کے متعلق 2019 میں دونوں ملکوں نے اتفاق کیا تھا ، مگر اس ترکیہ اور لبیا کے دو طرفہ اتفاق سے بحر روم کی دوسری ریاستوں نے اظہار ناراضگی کیا تھا۔

اس خصوصی زون سے دونوں ملکوں کے درمیان سمندری حدود کا بھی تصور سامنے آیا تھا لیکن یونان اور قبرص نے اس پر حملہ کیا تھا جبکہ مصر اور اس کے ساتھ اسرائیل نے لیبیا اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے پر تنقید کی تھی۔

اب کی بار نئے معاہدے کے حوالے سے ترکیہ کے وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ 'اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ ممالک اعتراض کرتے ہیں۔' ان کا مزید کہنا تھا 'اس معاملے میں کسی تیسرے ملک کو مداخلت کا حق نہیں ہے۔'

ترکیہ کے لیے لیبیا کے عبدالحمید الدبیبہ کی حکومت کے ہاں کافی حمایت پائی جاتی ہے۔ تاہم اس حکومت کی قانونی حیثیت متنازعہ ہے۔ کیونکہ لیبیا کی پارلیمنٹ متبادل انتظامیہ کی حامی ہے۔

پارلیمنٹ کے سپیکر عقیلہ الصالح جنہیں مصری حمایت حاصل نے اس اس نئی مفاہمتی یادداشت پر اعتراض کیا ہے کہ اس پر لیبیا کی اس حکومت کی طرف سے دستخط کیے گئے ہیں جس کے مینڈیٹ کو پارلیمنٹ تسلیم نہیں کرتی ہے۔

حکومتی حوالے سے پائے جانے والے تعطل کی وجہ سے نئے انتخابات کی راہ بھی روک رکھی ہے ، جس خطرہ ہے کہ لیبیا ایک بار پھر تصادم میں گھر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں