’’خاتون شوہر کا کچھ حصہ دوسری خاتون کو عطیہ دے‘‘

عجیب وغریب فتویٰ پر غم وغصہ، مصری عالم نے معذرت کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں ایک عجیب اور دلچسپ فتویٰ نے عوام بالخصوص خواتین کو مشتعل کر دیا۔ ملک میں تنازعہ کھڑا ہونے کے بعد مصری عالم دین نے اپنے فتوے سے رجوع کرکے معذرت کرلی۔

مذہبی مبلغ الشیخ اسلام رضوان نے ایک فتویٰ دیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایک عورت اپنے شوہر کا کچھ حصہ دوسری خاتون کو عطیہ کرے۔ فتویٰ پر عوامی غصے کے اظہار کے بعد شیخ اسلام رضوان نے کہا ’’میں نے جو کچھ کہا اس پر معذرت خواہ ہوں۔‘‘

شیخ اسلام رضوان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کا وہ مطلب نہیں تھا جو لفظوں سے سمجھا جا رہا تھا۔ ان کے الفاظ کو غلط سمجھا گیا ہے۔

ہوا کچھ یوں تھا کہ مصری چینل "ٹین" سے بات چیت کرتے ہوئے الشیخ اسلام رضوان نے کہا کہ ایک عورت "شادی کے ذریعے دوسرے خاندان کی حفاظت کے لیے اپنے شوہر کا کچھ حصہ عطیہ کر سکتی ہے" انہوں نے سوال کیا کہ "جب کوئی عورت شادی کرتی ہے تو وہ اپنے شوہر پر قبضہ کیوں کرتی ہے اور یہ کیوں سمجھتی ہے کہ شوہر اس کی نجی جائیداد بن گیا اور اس کے ساتھ اب کسی کو اشتراک کا حق حاصل نہیں‘‘

انہوں نے استفسار کیا "بیوی یہ کیوں قبول نہیں کرتی ہے کہ اس کا شوہر ایک بیوہ سے شادی کرتا ہے اور اس کے یتیم بچوں کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، خاص طور پر اگر اس بیوہ کے پاس ذریعہ معاش، آمدنی یا رہائش بھی نہیں ہے؟"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایسی خواتین موجود ہیں جو خود پیش کش کرتی ہیں کہ ان کا شوہر دوسری عورتوں سے شادی کرے "

اس فتوے نے مصر میں بڑا تنازعہ کھڑا کردیا اور خواتین میں بڑے پیمانے پر غصہ پیدا کیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے رابطہ کیا تو مبلغ الشیخ اسلام رضوان نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی اپنی کہی ہوئی باتوں پر معذرت کر لی ہے اور دوسروں نے اسے غلط سمجھا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں تھا جو لفظی طور پرسمجھا جارہا تھا ۔ اس واقعہ سے میں نے غلطی ہونے پر معافی مانگنے کی ضرورت اور اہمیت کو بھی سیکھ لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں