روس اور یوکرین

’’ہم لڑنے جارہے ہیں‘‘ قادروف نے اپنے نوعمر بچوں کی ویڈیو شیئر کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چیچنیا کے صدر رمضان قادروف نے اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں تصدیق کردی کہ ان کے 14 میں سے 3 بچے یوکرین جنگ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ویڈیو میں بچوں کو فوجی تربیت کامظاہرہ کرتے بھی دیکھا جا سکتا۔

چیچن صدر نے بتایا کہ ان کے بیٹے 16 سالہ احمد، 15 سالہ ایلی اور 14 سالہ ایڈم طویل عرصہ سے مختلف قسم کے ہتھیار استعمال کرنے کے طریقے سیکھ رہے اور فوجی تربیت حاصل کر رہے تھے۔

قادروف نے کہا "یہی وقت ہے کہ وہ حقیقی معرکے میں دکھائی دیں، میں صرف ان کے عزم کی تعریف کر سکتا ہوں"۔ انہوں نے مزید کہا میرے بیٹے جلد ہی یوکرین کی جنگ کے مشکل ترین خطوں میں فرنٹ لائن پر جائیں گے۔

’’ جو امن چاہتا ہے وہ جنگ کی تیاری کرے‘‘

چیچن صدر نے پیر کو ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ میں ہمیشہ سے یہ مانتا آیا ہوں کہ ایک باپ کا بنیادی کام اپنے بچوں کو عقیدت سکھانا اور یہ بتانا ہے کہ اپنے خاندان، اپنی قوم اور اپنے ملک کا دفاع کیسے کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا "جو امن چاہتا ہے، وہ جنگ کی تیاری کرے"

یاد رہے قادروف نے گزشتہ ہفتے روس سے یوکرین میں محدود جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا مشورہ بھی دے ڈالا تھا۔ تاہم کریملن نے اسے ان کا جذباتی رد عمل قرار دیا تھا۔

لیمان کا مرکزی اہمیت کا حامل علاقہ روس کے ہاتھ سے جانے کے بعد قادروف نے شہر کے اطراف آپریشنز کے انچارج روسی جنرل الیگزینڈر لاپین کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

رمضان قادروف نے یہ تک کہ ڈالا تھا کہ ' روسی فوجی کمانڈروں سے ان کے تمغے چھین کر انہیں بندوق پکڑائی جائے اور لڑنے کے لیے محاذ پر بھیج دیا جائے۔ تاکہ یہ اپنی شرمندگی کو اپنے خون سے دھو سکیں۔ '

قادروف اور اس کی ملیشیا " قاديروفتسی‘‘اس وقت یوکرین کی سرزمین پر روسیوں کی حمایت میں لڑ رہی ہے، تاہم ان پر خود چیچنیا میں متعدد ظالمانہ کارروائیوں کا الزام ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں