ایران میں اسکول کی طالبات کا حکومت مخالف احتجاج، "آمر بر باد" کے نعرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تین ہفتے قبل ایرانی پولیس کی تحویل میں نوجوان لڑکی مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ مغربی ایران میں اسکولوں کی طالبات احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پرنکل آئیں اور انہوں نے سروں سے اسکارف اتار کرحکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ طالبات کو’آمر مردہ باد‘ کے نعرے لگاتے سنا جا سکتا ہے۔

آج بدھ کے روزکراج شہرمیں کئی اسکول کی طالبات کو سڑکوں پر نکلتے ہوئے دیکھا جو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے حوالے سے "ڈکٹیٹر کو مردہ باد" کہہ رہے تھے۔

"اسکارف اتارپھینکے"

ان میں سے اکثر خواتین پر برسوں سے نافذ کیے گئے سخت قوانین اور ملک میں ان کی ظاہری شکل کے خلاف ایک صریح احتجاجی تحریک میں سر کے اسکارف کے بغیر نمودار ہوئی۔ بعض خواتین نے سروں سے اسکارف اتار دیے۔

قبل ازیں دارالحکومت تہران کی ’ولی عصر‘شاہراہ پربڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی جلوس نکالے۔

قابل ذکر ہے کہ نام نہاد مذہبی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے 3 دن بعد امینی کی ہلاکت کے بعد گذشتہ 16 ستمبر سے شروع ہونے والے زبردست مظاہرے گذشتہ دنوں ملک کی درجنوں یونیورسٹیوں تک پہنچ گئے تھے۔ پولیس نے احتجاجی مظاہرے کرنے والے شہریوں کی بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا۔ مہسا امینی کی موت کے بعد اس وقت پورا ایران حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے جب کہ حکومت نے احتجاج کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال کے مکروہ ہتھکنڈے اختیار کر رکھے ہیں۔ طاقت کے بہیمانہ استعمال کے نتیجے میں اب تک ڈیڑھ سو سے زاید افراد کو ہلاک کردیا گیا ہے جب کہ ہزاروں کے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ایران اس احتجاج کو غیرملکی سازش قرار دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں