روس اور یوکرین

یوکرین کے روس میں ’ضم شدہ علاقوں‘ میں صورت حال ’مستحکم‘ہوجائے گی:پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادی میرپوتین نے اس توقع کا اظہارکیا ہے کہ کریملن میں ضم شدہ یوکرین کے علاقوں میں صورت حال ’’مستحکم‘‘ ہوجائے گی جبکہ ماسکو کو حال ہی میں یوکرین میں پے درپے فوجی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یوکرینی فوج نے متعدد اہم قصبے روسی فوج کے قبضے سے واگزار کرالیے ہیں۔

روسی اساتذہ کے ساتھ بدھ کو ٹیلی ویژن پر ویڈیو کال کے دوران میں صدر پوتین نے کہا کہ ’’ہم اس مفروضے کی بنیادپرکام کررہے ہیں کہ نئے علاقوں میں صورت حال مستحکم ہوجائے گی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ہماری فوج کے زیرقبضہ علاقوں کے روس کے ساتھ الحاق کے لیے نام نہاد ریفرنڈم کے نتائج قائل کرنے سے کہیں زیادہ تھے۔

صدرپوتین نے کہا:’’دیانت داری کی بات یہ ہے کہ ریفرینڈم کے نتائج نے نہ صرف مجھے خوش کیا بلکہ مجھے حیران بھی کیا۔وہ کسی شک وشبہ سے بالاتر تھے۔

مغرب اور یوکرین نے روس نواز علاقوں میں ریفرینڈم کے عجلت میں انعقاد کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ ماسکونے ایک دکھاوے کے طور پریوکرینی علاقوں میں جلد بازی میں ریفرینڈم کا انعقاد کیا تھا جبکہ اس دوران میں یوکرینی فوج کی اپنے علاقوں کو واگزار کرانے کے لیے پیش قدمی جاری تھی۔

صدرپوتین نے گذشتہ ہفتےکریملن میں ایک بڑی تقریب میں یوکرین کے چارعلاقوں کو روسی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا اورکہا تھا کہ ان کے باشندے اب ’ہمیشہ کے لیے‘روسی ہو جائیں گے۔

انھوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی تھی جب یوکرین میں مختلف محاذوں پر روسی فوج کونمایاں فوجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑاتھا۔اس سے قبل گذشتہ بدھ کے روز ماسکو نے کیف سے کھوئی گئی زمین واپس لینے کا عہد کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں