جرمنی کے بارہ افراد شامی انتہا پسندوں کے کیمپ سے واپس پہنچ گئے

سات بچے اور چار خواتین بھی شامل ہیں ، وزیر خارجہ اینا لینا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جرمنی نے شامی انتہا پسند وں کے کیمپ میں موجود اپنے 12 شہریوں کو واپس لانے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ جرمنی میں ان افراد میں سے خواتین اور نوجوانوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس سلسلے میں جرمنی کی وزیر خارجہ اینا لینا بیرباک کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سات بچے اور چار خواتین بدھ کی رات واپس جرمنی پہنچ گئے ہیں۔

یہ سب لوگ شام کی شمال مشرقی علاقے میں قائم ایک کیمپ میں مقیم تھے۔ ایک بچہ جسے گیارہ سال کی عمر میں شامی کیمپ میں لے جایا گیا تھا وہ ان واپس لائے گئے افراد میں شامل ہے۔

وزیر خارجہ اینا لینا نے کہا ' مجھے اطیمنان ہے کہ ہماری معلومات میں موجود تمام معاملات طے ہو گئے ہیں۔ ' میں خاص طور پر مطمئن ہوں کہ بچے اپنے والدین کی قسمت کا انتخاب کرنے کے لیے جواب دہ نہیں ہیں۔ یہ نا ممکن تھا کہ انہیں شامی کیمپ میں مزید دیر رہنے دیا جاتا۔ '

مگر وزیر خارجہ نے کہا نوجوانوں کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہو گا۔' انہوں نے کہا ایک ہی بات جس پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا وہ یہ کہ کیمپ میں موجود مائیں واپس نہیں آنا چاہتی تھیں۔

جرمن وزارت خارجہ کے مطابق اب تک جرمنی سے شام کے اس کیمپ میں 76 چھوٹے بچے اور 26 خواتین گئے تھے۔ وہ مختلف مواقع پر پکڑے گئے یا مارے گئے ۔ 2019 میں داعش کی خود ساختہ خلاف کے خاتمے کے بعد سے مغربی ممالک کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا جارہا تھا۔

اس سے قبل حکومت نے کٓہر شخص کی کیس کو الگ سے دیکھ کر لانے کا راستہ لیا تھا۔ اس سال کے شروع میں ایسے لوگوں کی پہلی کھیپ اسی سال کے شروع میں واپس آئی تھی۔

دریں اثنا فرانس کے وزیر انصاف نے کہا ہے کہ مجموعی طور پر 77 بچوں کو سات مختلف آپریشنز کے ذریعے اب شام کے شمال مشرقی کیمپ سے واپس لایا جا چکا ہے۔ جبکہ چھ بچوں کو عراق سے واپس لایا گیا ہے۔ فرانس سے تعلق رکھنے والی ایک سو خواتین اور 250 بچے اب بھی شام کے مختلف کیمپوں میں موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں