سلامتی کونسل نے مزید دو حوثی فوجی عہدیداروں پر پابندی عائد کردی

حوثی بحریہ کے منصور السعدی اور قومی سلامتی کے مطلق عامر المرانی زد میں آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی نے جمعرات کو یمن میں حوثیوں کےدو فوجی عہدیداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرلیا۔

جن دو عہدیداروں پر پابندیاں لگائی گئیں ان میں بحریہ کے منصور السعدی اور حوثی ملیشیا کی قومی سلامتی کے مطلق عامر المرانی شامل ہیں۔

بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف حملے

منصور السعدی کو یمن کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں کے ارتکاب اور ایسی کارروائیوں کی حمایت کرنے کی بنا پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اسلحہ کی مقدار کی حد بندی کی بھی مخالفت کی تھی۔

حوثی بحری افواج کے چیف آف سٹاف کے طور پر منصور السعدی بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کے خلاف مہلک حملوں کے ماسٹر مائنڈ رہے ہیں۔

حوثی بحری افواج نے بار بار سمندر میں بارودی سرنگیں بکھیریں جن کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اجاگر کیا ۔

منصور نے ہتھیاروں کی پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یمن میں حوثیوں کو ہتھیار سمگل کرنے میں بھی مدد کی ۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

مطلق عامر المرانی پر پابندیاں لگانے کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ وہ یمن میں امن، سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں کو انجام دینے اور ان کارروائیوں کی حمایت کرنے میں ملوث ہیں۔

انہوں نے قابل اطلاق بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ یمن میں انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹ پیدا کی ہیں۔

المرانی نے نے حوثیوں کے قومی سلامتی کے دفتر کے نائب سربراہ کے طور پر کچھ انسانی امداد کیلئے کام کرنے والے افراد کی گرفتاری اور ان کے ساتھ ناروا سلوک برتنے کا حکم بھی دیا ہے۔

ان کے متعلق یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ انہوں نے انسانی امداد کی ترسیل پر اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کا غلط استعمال کیا اور اس سے ذاتی فائدہ اٹھایا۔ یمن کے ماہرین کے پینل نے 2018 کی اپنی رپورٹ میں اس سب کی نشاندہی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں