پانچ سال کی عمرمیں گم ہونے والی رضا کی پچاس سال بعد خاندان سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

نصف صدی قبل لاپتہ ہونے والی مصری خاتون اور اس کے اہل خانہ کے درمیان جنوبی شہرالاقصر میں پہلی ملاقات کے جذباتی مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے۔ بچھڑے خاندان کی ملاقات میں خاتون اور اس کے دیگر اقارب کوخوشی کی کیفیت میں روتے اور چیختے چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے کیمرے نے مسز رضا کی ملاقات کے لمحات کو ریکارڈ کیا جو گذشتہ صدی کے ستر کی دہائی میں بچپن سے ہی غائب ہو گئی تھیں۔ ان کا تعلق بنی سویف گورنری سے تھا۔ رضا اس وقت گم ہوگئی تھیں جب وہ اپنی ماں مسز تحیہ عویس کے ساتھ بنی سویف آئی تھیں۔ اب جب وہ اپنے خاندان سے ملی تو ملاقات کا منظر انتہائی جذباتی ہے۔ ان کی پہلی ملاقات گرم جوشی، آنسوؤں اور لپٹ کر گلے ملنے سے ہوئی۔

اس موقعے پرپانچ عشروں بعد ملنے والی رضا کی ہمشیرہ نے کہا کہ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور اسے کوئی امید نہیں تھی کہ اس کی چھوٹی بہن اتنا عرصہ لا پتا رہنے کے بعد اپنے خاندان کی باہوں میں واپس آئے گی۔

'میں نے امید نہیں ہاری'

رضا نے کہا کہ وہ ان تمام برسوں میں مایوس نہیں ہوئی اور اپنے خاندان کے پاس واپس آنے کی امید نہیں ہاری۔ وہ اللہ سے دعا کرتی ہیں کہ وہ ان کی عمر اور ان کی والدہ کی عمر دراز کرے تاکہ ان سالوں میں ان کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی ماں کے ساتھ اپنے پہلے رابطے کے دوران مجھے محسوس ہوا جیسے وہ ابھی بھی ایک چھوٹی بچی ہیں۔میں اپنی ماں کے گلے لگنے کے لیے بہت بے تاب تھی۔

رضا نے مزید کہا کہ وہ الاقصر میں اس طرح رہ رہی تھیں جیسے وہ ان کے خاندان میں سے ہوں۔ اس لیے اسے ایک لمحے کے لیے بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ ان کے لیے اجنبی ہے، بلکہ اسے لگا کہ وہ ان کی بیٹی، بہن اور ماں ہیں اور وہ سب سے بہترین ہیں۔ والدین نے اس سے کہا کہ ان تمام سالوں کے باوجود وہ اپنے حقیقی خاندان کو نہیں بھولی اور انہیں تلاش کرنے کی امید قائم رکھی۔

تلاش کا تھکا دینے والا سفر

رضا کی والدہ تحیہ عویس احمد جو اب عمر رسیدہ ہیں نے بتایا کہ رضا کی 5 سال تھی جب وہ ایک بازار میں گم ہو کر غائب ہو گئی، جس کے بعد گھر والوں نے اسے ہر جگہ تلاش کرنے کے لیے لمبا سفر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس نے اسے ڈھونڈنے کی امید نہیں چھوڑی تھی اور اس کا دل اسے بتا رہا تھا کہ وہ زندہ ہے، یہاں تک کہ اس کے بھائی نے اسے یہ بتا کر حیران کیا کہ اسے ایک ایسی عورت ملی ہے جس کی خصوصیات اس کی لاپتا بیٹی کی طرح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رضا کو فیس بک پر دیکھا گیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسے اس وقت تک یقین نہیں آیا جب تک اس نے فون پر اپنی بیٹی کی آواز نہیں سنی کیونکہ اس نے محسوس کیا کہ اس کی روح اس کی طرف لوٹ رہی ہے۔ وہ اپنے خاندان کے افراد کو اپنی بیٹی سے ملنے الاقصر لے جائے گی اور اس کے ساتھ واپس آئے گی۔ اس کے بچے اور کئی سالوں کی غیر حاضری کے بعد انہیں واپس کر دیں۔

عوامی توجہ کا مرکز واقعہ

مصر میں سوشل میڈیا پر یہ واقعہ ٹاپ ٹرینڈ پررہا ہے۔ 50 سال سے زائد عرصے کی غیر موجودگی کے بعد ایک مصری خاتون کی اپنے خاندان میں واپسی کی کہانی کو بہت زیادہ پذیرائی ملی۔

کہانی کا آغاز پچھلی صدی کے ستر کی دہائی میں ہوا جب چھوٹی بچی رضا اپنی والدہ تحیہ عویس کے ساتھ باہر گئی جو الفشن شہر کے بازار میں سبزی فروش کا کام کرتی تھی وہاں سے بچی گم ہوگئی۔

ماں سے دور ہونے کے بعد ننھی رضا ایک ٹرین پر سوار ہوکر الصعید کے علاقے میں چلی گئی اور الاقصر شہر میں جا پہنچی۔ رضا اسی خاندان کے پاس رہی جسے وہ گم ہونے کے بعد ملی تھی۔ وہ وہیں پلی بڑھی، اس کی شادی ہوئی اور اب بچے بھی ہیں۔ اب اس کی عمر پچاس سال ہے مگراس کی تلاش میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ’فیس بک‘ نے بہت مدد کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں