جنوبی کوریا اور امریکہ کی بحری مشقیں شروع، طیارہ بردار بحری جہاز بھی شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی کوریا کی فوج نے کہا کہ جنوبی کوریا اور امریکہ نے جمعہ کو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کا استعمال کرتے ہوئے مشترکہ بحری مشقیں شروع کردی ہیں۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کہا کہ بحری مشقیں 7 اور 8 اکتوبر کو ملک کے مشرقی ساحل سے دور ہوں گی۔

واضح رہے ان مشقوں کا آغاز ان حالات میں ہوا ہے جب شمالی کوریا کی جانب سے جمعرات کو سمندر میں دو بیلسٹک میزائل داغے گئے اور پھر جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب جنگی طیاروں کو پروازیں کی گئیں۔

جنوبی کورین جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کہا کہ ہم اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھانا اور شمالی کوریا کی طرف سے کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے لیے تیاری جاری رکھیں گے۔

امریکی جنگی گروپ اس ہفتے پہلے ہی جاپان اور جنوبی کوریا کے جنگی جہازوں کے ساتھ تین طرفہ میزائل دفاعی مشقوں میں حصہ لے چکا ہے۔ منگل کو شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل فائر کیا تھا تو اس کے بعد جنوبی کوریا اور جاپان کے جنگی جہازوں نے اژان بھری تھی۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ کے اعلیٰ دفاعی حکام نے تبادلہ خیال کیا ہے ۔ اس بات چیت میں شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل کو لانچ کرنے مشق کی شدید انداز میں مذمت کی۔ بات چیت میں اتفاق کیا گیا کہ سہ فرقی بحری مشقوں سے شمالی کوریا کو جواب دینے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں