امریکہ ایرانی مظاہرین کی مدد کرے: 20 انسانی حقوق تنظیموں کا مطالبہ

ایرانی حکومت کے جرائم کو ’’یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق‘‘میں بھی اٹھایا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انسانی حقوق کی 20 تنظیموں نے امریکہ کے صدر جو بائیڈن کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دیں۔ ان تنظیموں نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ "دنیا کی رہنمائی کرنے والی جمہوری قوت" کے سربراہ کی حیثیت سے مظاہرین کی حمایت کریں۔

اپنے خط میں انسانی حقوق تنظیموں کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں ایرانی عوام کو امریکہ اور عالمی برادری کی حمایت کی اشد ضرورت ہے۔

ان تنظیموں نے امریکہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو ایرانی حکومت کے جرائم کی تحقیقات کے لیے مدعو کرے۔

خط میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مظاہرین کی حمایت کے لیے عملی اقدامات جلد کیے جائیں۔ تاکہ نئی ایرانی نسل کو پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ جبر کا نشانہ بننے سے روکا جا سکے۔

انسانی حقوق تنظیموں کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب 16 ستمبر کو ایرانی خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے ایران میں احتجاجی مظاہرے مسلسل جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں بعض اوقات رہبر معظم خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے گئے اور کبھی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مظاہروں کا دائرہ وسیع ہو کر ایران کے بیشتر صوبوں اور قصبوں تک پہنچ چکا ہے۔ مظاہرین یہ نعرے لگاتے بھی نظر آئے ہیں کہ "اسے احتجاج کہنا بند کرو، اب یہ ایک انقلاب ہے!"

دریں اثنا امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا جواب دینے کے بارے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہم آہنگی جاری رکھے گا۔

کینیڈا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ احتجاج کو دبانے کی وجہ سے ایرانی حکام کے خلاف پابندیوں کی فہرست میں توسیع کرے گی۔ کینیڈا کی حکومت نے بھی ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

فرانس نے اپنے شہریوں پر زور دیا کہ وہ گرفتار کیے جانے کے خوف سے جلد از جلد ایران چھوڑ دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں