ایران جوہری معاہدہ

جوہری معاہدہ کی عدم بحالی کے پیچھے ایران کے نہ ختم ہونے والے مطالبات ہیں: امریکہ

ہم تہران میں حکومت تبدیل کرنا نہیں عوام کے حقوق کا احترام کرنے والے حکمران چاہتے ہیں: رابرٹ میلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی رابرٹ میلے نے کہا ہے کہ ہم تہران کی حکومت کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے لیکن ہم ایسی حکومت چاہتے ہیں جو اپنے عوام کے حقوق کا احترام کرے۔

امریکی نیشنل پبلک ریڈیو نے کہا کہ رابرٹ میلے کا یہ بیان ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان کے حالیہ ریڈیو انٹرویو میں کی گئی اس بات کے جواب میں آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امریکیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں ہوگی۔

ریڈیو نے رابرٹ میلے کے حوالے سے کہا کہ واشنگٹن کی پالیسی ان لوگوں کی حمایت کی پالیسی ہے جو پر امن احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نقاب نہ پہنیں یا اپنی زندگی معمول کے مطابق گزاریں۔ لیکن پھر بھی انہیں حکومتی جبری ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

امریکی نمائندہ رابرٹ میلے نے کہا کہ جوہری معاہدے کے مذاکرات کے تمام شرکا پہلے ہی اس کو بحال کرنے پر اتفاق رائے پر پہنچ چکے تھے، پھر گزشتہ مارچ میں یہ معاہدہ طے پا گیا تھا۔ تاہم اگست میں ایران نے نئی درخواستیں جمع کرانا شروع کردی ہیں۔ ایران کی نئی درخواستیں یا تو غیر حقیقی تھیں یا جوہری مذاکرات سے غیر متعلق تھیں۔

انہوں نے کہا ایران میں زیر حراست امریکی قیدیوں کی رہائی کے لئے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں