جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی روسی تیاری کے اشارے نہیں ملے: امریکہ

بائیڈن کی تقریر جوہری خطرات پر ہماری سنجیدگی کو ظاہر کرتی: محکمہ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ہمارے پاس اپنی سٹریٹجک جوہری پوزیشن کو پھر سے ترتیب دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ روس جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق روسی بیانات غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر جو بائیڈن کی تقریر امریکہ کی اس سنجیدگی کی تصدیق کرتی ہے جس کے تحت روسی جوہری خطرات کو سمجھا جا رہا ہے۔

ترجمان کیرن جین پیئر نے یہ وضاحت اس وقت دی ہے جب جمعرات کو امریکی صدر بائیڈن اپنے بیان میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرد جنگ کے بعد پہلی مرتبہ دنیا کو اپنے خاتمے کے خطرے کا سامنا ہے۔ بائیڈن نے یہ انتباہ یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے تناظر میں جاری کیا۔

سوال یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا بائیڈن کا یہ انتباہ امریکہ کو ملنے والی کسی نئی انٹیلی جنس سے متعلق ہے؟ جواب میں کیرن جین پیئر نے کہا ’’ نہیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بائیڈن کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ روس کے جوہری خطرات سے نمٹنے میں کتنا سنجیدہ ہے۔"

یاد رہے کہ بائیڈن نے جمعرات کو نیویارک میں کہا "ہم نے (صدر جان) کینیڈی اور 1962 میں کیوبا کے میزائل بحران کے بعد سے دنیا کے خاتمے کی طرف جانے والی جنگ کے امکانات کا سامنا نہیں کیا، ہم یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس طرح (روسی صدر ولادیمیر) پیوتن کوئی راستہ نکال لیں گے۔‘‘

اس سے قبل پیوتن نے 21 ستمبر کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی اپنی تقریر میں جوہری بم کے استعمال کا عندیہ دیا تھا۔

پیوتن نے مغرب کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے ہتھیاروں میں موجود "ہر ذریعے" کو استعمال کرنے کے لیے اپنی تیاری کا کہا اور الزام لگایا تھا کہ مغرب روس کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں