روس اور یوکرین

روس اور کریمیا کے درمیان اہم پل پر دھماکہ روس کے لیے نیا درد سر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس اور کریمیا کے ایک اہم پل پر ہفتے کی صبح آتشزدگی کے واقعے کے بعد یوکرین اور روس دونوں کی طرف سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں اور کسی نے بی کوئی حتمی موقف پیش نہیں کیا ہے۔

یوکرین کے ذرائع نے اسے ایک آئل ٹینکر میں دھماکے کا واقعہ قرار دیا ہے جو عین کریمیا اور روس کے درمیان رابطے کے اہم ترین پل پر ہوا ہے اور ان دنوں اس کی اہمیت اور بڑھ چکی ہے۔

دوسری جانب روس نے اس واقعے کو کار بم دھماکے قرار دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کار بم دھماکے سے کریمیا اور روس کے اہم پل پر بہت بڑی آ گ بھڑک اٹھی۔ تاہم روس نے اس واقعے کے حوالے سے ابھی تک یوکرین یا کسی اور پر کوئی الزام نہیں لگایا ہے۔

البتہ روس کے خبر رساں ادارے نے انسداد دہشت گردی کی قومی کمیٹی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ولادی میر پوتین نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے حکم دیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے یہ واقعہ کیونکر رونما ہوا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اس کار بم دھماکے ذریعے ٹرین کے ساتھ موجود سات آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ واضح رہے یہ پل ٹرین کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ یوکرین کے ساتھ جنگ کی وجہ سے یہ پل روس کے لیے جنگی سامنان کی ترسیل کیلیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

اس ٹینکر دھماکے بعد پل پر سے گزرنے والی ٹریفک معطل ہو گئی حتیٰ کہ ٹرینوں کی آمدو رفت بھی رک گئی۔ یوکرینی حکام کے مطابق اس پل کا ولادی میر پوتین نے دو ہزار اٹھارہ میں افتتاح کیا تھا۔ تاکہ کریمیا کو اپنے ساتھ ملانے کے بعد رابطہ کاری آسان رہے۔

کریمیا کے پل پر آگ

دونوں طرف سے روس کریمیا پل پر دھماک یا آگ لگنے کے واقعے کا وقت تقریبا ایک ہی بتایا گیا ہے۔ لیکن ٹریک کے معطل ہو جانے کے علاوہ کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں دی ہے۔

ادھر روس میں اس واقعے کو کافی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ جائے دھماکہ یوکرین کے ساتھ جنگ کے خط اول سے کافی دور ہے۔ اگر اس واقعے کی تحقیقات میں یوکرین کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی تو یہ روس کے مزید پریشانی کا باعث ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں