سرکاری ڈاکٹر نے مھسا امینی کی ہلاکت کی وجہ دماغی مرض قرار دے دی

'ہائیپوکسیا' کی وجہ سے امینی کے دماغ اور دوسرے اعضاء نے کام چھوڑ دیا تھا' ایرانی کورونر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں بعد از مرگ طبی رپورٹ جاری کرنے اور اچانک موت کی وجوہات بیان کرنے والے شعبے کے ذمہ دار نے قرار دیا ہے کہ 'بائیس سالہ مہسا امینی کی ہلاکت پولیس کے ہاتھوں تشدد یا کسی چوٹ لگنے کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کی موت کی وجہ اس پہلے سے لاحق بیماری بنی تھی۔ '

مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے تین ہفتے بعد یہ رپورت اس وقت سامنے لائی گئی ہے جب پورے ایران میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں کے دوران 150 افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے اور امریکہ و مغربی ممالک نے اس معاملے میں متحرک موقف اختیار کر کھا ہے۔ دوسری جانب ایران نے انٹر نیٹ پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

دوسری جانب مہسا امینی کے والد نے الزام لگایا ہے کہ اس کی ٹانگوں پر زخم تھے اور اس کی موت کی ذمہ دار پولیس ہے۔

ایرانی ' کورونر' نے کہا ہے کہ امینی کی موت سر یا دوسرے اعضا پر چوٹ لگنے کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی ۔' بلکہ جب ایک مرتبہ اس کے دل کی دھڑکن کے غر موثر تو وہ ٹھیک ہوگئی۔ لیکن اس کی موت کی وجہ اس کا ہائیپوکسیا میں مبتلا ہونا بنا، ہائیپوکسیا دماغ کو نقسان پہنچاتا ہے اور دماگ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ '

' کورونر کے مطابق ۔ مہسا امینی کی موت کا سبب ہائیپوکسیا تھا کہ اسی کی وجہ سے اس کے کئی اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔'

دریں اثنا امینی کے خاندان کے وکیل صالح نیک بخت اس سے پہلے ایک نیم سرکاری نیوز ویب سائٹ کو بتایا تھا ' معزز ڈاکٹر حضرات یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ پولیس کی حراست میں زخمی ہوئی تھی۔ '

پولیس بھی پہلے یہ تسلیم کرتی رہی ہے کہ امینی کسی تکلیف میں مبتلا نہ تھی۔ اسے جب تعلیم کے لیے تھانے لے جایا گیا تو اسے دل کا دورہ پڑا ۔ تاہم امینی کے خاندان والے امینی کے عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کی تردید کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں