سعودی آئل کمپنی 'آرامکو' تحفظ ماحولیات کے لیے سرگرم

جنگلی حیات کا تنوع برقرار رکھنے کی کوششوں میں کامیابی، معدومی کے خطرات ٹل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودیہ کے تیل کی پیداوار کے سلسلے میں اہم ترین ادارے ' آرامکو' سعودی عرب میں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات کو بچانے کے لیے مسلسل کئی سال سے کوشاں ہے۔

مقصد مملکت سعودیہ میں ماحولیات کے تحفظ کے عزم کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ سعودیہ اور اس کے صحراوں میں پائی جانے والی متنوع جنگلی اور صحرائی مخلوق معدوم ہونے سے بچائی جا سکے۔

اس سلسلے میں 'آرامکو' پورے ملک میں دس جگہوں درجنوں مقامی پودوں، جانوروں کے تحفظ کے لیے کرداد ادا کر رہا ہے۔

اس کی کوششوں سے 500 سے زائد پودوں اور جانوروں کے تحفظ کے علاوہ ان کے ذیلی پچاس پودوں کے تحفظ میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ سعودیہ کی منفرد رکھنے والی ان شناختوں کو موجود رکھنے اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے 'آرامکو ' گزشتہ کئی برسوں سے سرگرم ہے۔

مملکت سعودیہ کی ہر جگہ متنوع حیاتیاتی شناختوں کی شہرت کی حامل ہے۔ ان جگہوں پر مقامی اور غیر مقامی دونوں کی طرح کی حیاتیاتی نمائندگی کی روایت ہے۔ یہ علاقہ شیبہ سے شروع و کر شمال میں راس التنقیب تک کا علاقہ، مشرق میں ابو علی سے لے کر مغرب میں ابہا تک قائم کیے گئے زون مملکت سعودیہ کے لیے ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں۔

'آرامکو' نے دو ہزار سولہ میں قائم کیے گئے شیبہ وائلڈ لائف ریزرو میں جنگلی حیات سے متعلق معدوم ہوتی شناختوں کو بحال کر دیا ہے۔ اب جنگلی حیات کی یہ نشانیاں بڑی تعداد میں نظر انے لگی ہیں۔ ان میں عربی اوریکس بھی شامل ہے اور عربی ہرن بھی۔

یہ دور افتادہ علاقہ رب الخالی کے نام سے وسیع ریگستانی علاقے میں واقع ہے۔ جو ساڑھے چھ لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے ایک تہائی کے برابرہے۔ اسی کے قرب میں 'آرامکو' کی وسیع پیمانے پر موجود سہولیات سے جڑا باڑ والا علاقہ ہے۔ اس میں درجنوں مقامی پودے اور جانور ہیں۔ یہ علاقہ رب الخالی کے علاوہ خالی کوارٹر کے طور پر بھی مشہور ہے۔

جنگلی حیاتیات کی دنیا بھر میں اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسے گاڑیوں اور چراگاہوں کے انداز سے شکار کے طور پر لاحق ہونے خطروں سے بچانا ضروری ہے۔

'آرامکو' کی مدد سے جنگلی حیاتیات سے متعلق تین انواع کو دوبارہ متعارف کرایا گیا ہے۔ ان میں عربی اوریکس، صحرائی ہرن اور شتر مرغ شامل ہیں۔

1972 تک صرف چار عربی اوریکس باقی رہ گئے تھے ، یہی حال صحرائی ہرنوں کا تھا، شتر مرغ رب الخالی سے 120 سال سے بھی زیادہ پہلے معدوم ہو چکے تھے۔

'آرامکو' کی مدد سے جنگلی حیات تنوع بحال کرنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ صرف اوریکس کی تعداد اب 130 ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں