شمالی کوریا نے دواور بیلسٹک میزائل داغ دیے:جاپان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جاپانی حکام نے بتایاہے کہ شمالی کوریا نے ہفتے کے روزایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔جاپان کے قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے یہ خبر دی ہے شمالی کوریا نے ممکنہ طور پر دومیزائل داغے ہیں۔

شمالی کوریا کا 25 ستمبر کے بعد سے اس طرح کے میزائلوں کا یہ ساتواں تجربہ ہے اور اس کی ان سرگرمیوں سے ٹوکیو اور واشنگٹن دونوں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

این ایچ کے کا کہنا ہے کہ ایسالگتا ہے،ایک بیلسٹک میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے دور گراہے۔اس نے بعد میں وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا ایک اورمیزائل بھی فائر کیا گیا ہے جبکہ فوری طور پر مزید معلومات دستیاب نہیں ہوئی ہیں۔

جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوزایجنسی نے جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے حوالے سے خبردی ہے کہ شمالی کوریا نے مشرقی ساحل کی جانب ایک غیرواضح بیلسٹک میزائل داغا ہے۔

جاپان کے وزیر مملکت برائے دفاع توشیرو انو نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں میزائل 100 کلومیٹر (60 میل) کی بلندی تک پہنچے اورانھوں نے اپنی 350 کلومیٹر کی رینج کا احاطہ کیا ہے۔ پہلا میزائل مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر 47 منٹ (1647جی ایم ٹی) پر داغا گیا اور دوسرا اس کے چھے منٹ کے بعد فائرکیا گیا۔

انھوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرے ہیں اور حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس قسم کے میزائل داغے گئے تھے ، جس میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ یہ آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل تھے۔

شمالی کوریا نے گذشتہ منگل کے روز جوہری ہتھیاروں سے لیس پہلے سے کہیں زیادہ دور تک مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔اس کے بعد یہ پانچ سال میں پہلی بار جاپان کی فضائی حدود سے شمالی کوریا کا میزائل گزرا ہے اور وہاں کے مکینوں کو خبردارکردیا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات میں پناہ لے لیں۔

انو نے کہا کہ ٹوکیو شمالی کوریا کی جانب سے بار بار کی جانے والی اس طرح کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میزائل اور جوہری تجربات کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے نئے میزائل تجربات امریکا سے لاحق براہ راست فوجی خطرات کے خلاف اپنے دفاع کے لیے کیے ہیں اور ان سے ہمسایہ ممالک اور خطوں کی سلامتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے سی این اے نے ایوی ایشن انتظامیہ کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے میزائل تجربات ملک کی سلامتی اور علاقائی امن کو براہ راست امریکا سے لاحق فوجی خطرات سے بچانے کے لیے معمول کا ایک منصوبہ بند خود دفاعی اقدام ہے۔

امریکا اور جنوبی کوریا نے جمعہ کے روز مشترکہ بحری مشقیں کی ہیں۔ اس سے ایک روز قبل سیئول نے شمالی کوریا کی جانب سے بظاہر بمباری کی مشقوں کے جواب میں لڑاکا طیاروں کوچوکس کیا تھا۔

دریں اثناء امریکا نے ان تازہ میزائل تجربات کے جواب میں شمالی کوریا کے خلاف گذشتہ روز نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں