قطر نے ورلڈ کپ کے دوران شراب نوشی اور مردوزن کے اختلاط پر پابندی کی تردید کر دی

تردید سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد کی گئی، پوسٹ میں بےحیائی سے بھی گریز کا کہا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطر میں ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیے قائم کمیٹی نے سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی ان پابندیوں کو جھوٹ قرار دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے آنے والوں کو شراب اور مردو خواتین کے اختلاط سے گریز کرنا چاہیے۔

ورلڈ کپ کے لیے قائم کمیٹی نے اس سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی پابندی نما احتیاطی درخواست کی تردید کی ہے۔ اس وائرل ہونے والی پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شراب نوشی سے گریز کر کے اپنے رویے سے دین اور قطری عوام کی ثقافت کے لیے احترام ظاہر کریں۔

نیز خواتین کے ساتھ میل ملاپ اور دوسروں کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر لینے سے بھی گریز کریں ۔ اسی طرح بے حیائی کے کاموں ، اونچی آواز میں موسیقی سننے اور عبادت گاہوں کا احترام نہ کرنے سے بھی روکا گیا تھا۔

یہ چیز درست سمجھتے ہوئے بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے اسے بار بار ری پوسٹ اور شئیر کیا تھا۔ جس کے بعد ورلڈ کپ کے لیے قائم سپریم کمیٹی نے اس کی تردید کرنا ضروری سمجھا اوراس قسم کی تماشائیوں پر تمام پابندیوں کی فوری تردید کی۔

سپریم کمیٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ' ہمیشہ سے قطر ایک کھلا ، روادار اور سب کو خوش آمدید کہنے والا ملک ہے۔ اس لیے تماشائیوں پر پابندی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی پابندیاں درست نہیں ہیں نہ ہی انتظامیہ نے ان کے ساتھ ہے۔

مزید کہا گیا ہم زور دے کر کہتے ہیں تماشائی اور قطر آنے والے مہمان صرف ورلڈ کپ کے آرگنائزرز کی طرف سے سامنے آنے والی چیزوں پر دھیان دیں ، کسی بھی اور چیز پر نہیں۔

' ٹورنامنٹ کے منتظمین بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ قطر آنے والے ہر شخص کو ورلڈ کپ 2022کو ہر طرح سے انجوائے کرنے کا چاہیے۔ اس حوالے سے قطر ہمیشہ سے بڑا کھلا ڈلا ملک رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں