مظاہرین کے قتل کے خلاف احتجاج، آرٹسٹ نے تہران کے فوارے خون میں بدل دئیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تہران میں عوامی چوکوں کے فوارے خون کے تالابوں کی طرح نظر آنے لگے ہیں۔ جمعہ کوجب ایک آرٹسٹ نے احتجاجی تحریکوں کے خلاف خونی کریک ڈاؤن کی عکاسی کرنے کے لیے ان فواروں سے نکلنے والےپانی کوخونی رنگ میں پیش کیا تو اس کا مقصد اسلامی جمہوریہ میں تین ہفتے سے جاری خونی کریک ڈاؤن کی طرف توجہ دلانا اور اس کی مذمت کے لیے آرٹ کو بہ ہتھیار استعمال کرنا تھا۔

خیال رہے کہ تین ہفتے سے زاید عرصہ سے ایران میں حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ یہ احتجاج 16 ستمبر کو ایک بائیس سالہ لڑکی مہسا امینی کے قتل کے بعد شروع ہوا۔ امینی کو ایرانی مذہبی پولیس نےاپنی تحویل میں لیا تھا جو پولیس کی تحویل میں مبینہ تشدد سے ہلاک ہوگئی تھیں۔

16 ستمبر کو 22 سالہ کرد ایرانی خاتون کی تہران میں نقاب کے قوانین کی پابندی نہ کرنے پر گرفتاری اور اس کی ہلاکت کے اعلان کے بعد سے ایران میں بے چینی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔

اس کی موت نے عوامی غصے میں اضافہ کیا اور مظاہروں کو جنم دیا۔ یہ احتجاج ایران میں تقریباً تین سال میں سب سے بڑے مظاہروں کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔

اس دوران ایرانی پولیس نے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے ان کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ کریک ڈاؤن کے دوران سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیا گیا جب کہ بیسیوں کو قتل کردیا گیا۔

ایران میں خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے "1500 فلمنگ" چینل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان فواروں کے مناظر شائع کیے جن کے پانی سرخ ہو گئے تھے۔

سب سے زیادہ کثرت سے دیکھے جانے والے فوارے تہران کے وسط میں "پارک دانشجو" (طالب علموں کا باغ)، "فاطمی اسکوائر" اور "خانہ حنرمندان" (فنکاروں کے گھر) میں واقع ہیں۔

ٹویٹر پر سماجی کارکنوں نے سرخ پانی کے چشموں کو "آرٹ ورکس" کے طور پر بیان کیا جسے "تہران خون میں ڈوبا ہوا" کا عنوان دیا گیا۔ تاہم یہ آرٹ ورک کس آرٹسٹ نے بنایا ہے اس کے بارے میں معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

ایران میں اوسلو میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ایران میں دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں کم از کم 92 افراد مارے گئے۔ احتجاج کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی سمیت انٹرنیٹ پر سخت قدغنیں "انسٹاگرام" اور "واٹس ایپ" کو بند کردیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں