ڈنمارک، جرمنی، ہالینڈ کی مخالفت، یورپی یونین توانائی منصوبہ منظور کرنے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریگی نے جمعہ کے روز جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں یورپی یونین کے سربراہی ا جلاس میں کہا کہ یورپی یونین توانائی معاملہ پر تجاویز اب یورپی کمیشن کے 20 اور 21 اکتوبر کے ہونے والے اجلاس کے سامنے رکھے گی۔

یوکرین جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے یورپ کے سربراہان مملکت نے پراگ میں اجلاس کیا۔ انہیں امید ہے کہ بجلی کی پیداوار کے نظام پر گیس کی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اصلاحات کا معاہدہ دو ہفتوں میں کرلیا جائے گا۔

یورپی تجاویز میں ایک میں گیس کی قیمتوں پر حد بندی لگانے کا بھی کہا گیا تھا، اس تجویز کی بیشتر یورپی ملکوں نے حمایت کردی تاہم ڈنمارک، جرمنی اور نیدر لینڈ نے اس تجویز کی مخالفت کردی جس کے باعث توانائی معاہدہ کی منظوری نہ ہوسکی۔ ان تین ملکوں کا موقف ہے کہ گیس کی کم سے کم قیمت مقرر کرنے سے ان کی معیشتوں کیلئے

درکار گیس خریدنا بھی مشکل ہوجائے گا۔

یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے یورپی سربراہی اجلاس کے اختتام کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم توانائی کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے اپنے وسائل متحرک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم سٹاک کو بڑھانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں ۔

ہم روس سے توانائی کے وسائل کی کھپت کو کم کرنا جاری رکھیں گے کیونکہ روس نے توانائی کو یورپ کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔

دریں اثنا یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وین ڈیر لیئن نے زور دے کر کہا کہ یورپ آنے والے موسم سرما کے لیے بہتر طور پر تیار ہے۔ ہم نے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور روس پر انحصار کم کرنے کے لیے بہت سا کام کرلیا ہے۔

ہسپانوی وزیر توانائی نے کہا کہ جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں یورپی رہنماؤں کا اجلاس گیس کی قیمتوں کے تعین کے نظام پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ یہ نظام موجودہ معیار کا متبادل دے گا اور قیمتوں کو مؤثر طریقے سے محدود کرے گا۔

جرمن چانسلر اولاف شلٹز نے کہا کہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ گیس کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اور یہ کہ ہمیں قیمتوں میں کمی لانے کیلئے ناروے، امریکہ اور بہت سے دوسرے ممالک سے بات کرنے کی ضرورت ہے ۔

انہوں نے کہا قیموں میں کمی آنا ضروری ہے اور ہم صرف ملکر ہی قیمتوں میں اضافے کے اس مسئلہ سے نمٹ سکتے ہیں۔

جرمن چانسلر نے مزید کہا کہ پراگ کے اجلاس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ یورپی ممالک یوکرین کے ساتھ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں