ڈنمارک کے سفیر کی ایرانی وزارت خارجہ میں طلبی

ایرانی سفیر پر حملے کے خلاف احتجاج کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈنمارک میں ایرانی سفیر کو دھمکیاں ملنے اور ایک شخص کے چاقو سے مسلح ہو کر ایرانی سفارتخانے میں داخل ہونے پر ڈنمارک کے سفیر کی ایرانی وزارت خارجہ میں طلبی کی گئی اور احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔ یہ بات ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے پریس نوٹ میں کی گئی ہے جو سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آیا ہے۔

اس سے پہلے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں پولیس نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ 'ایک 32 سالہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ یہ شخص چاقو سے مسلح ہو کر ایرانی سفارتخانے کی حدود میں داخل ہوا تھا، یہ شخص ایران کا ہی شہری تھا۔ تاہم سفارت خانے کے عملے کے ایک رکن نے اسے سفارت خانے کی عمارت میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا۔

پولیس کی طرف سے جاری کردہ اخباری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس حراست میں لیے گئے شخص کو ہفتے کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اس پر دو مختلف الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اولا اس نے پرتشدد کارروائی کی کوشش کی۔ نیز سفارتی حیثیت کے حامل افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کر ڈینش ضابطہ فوجداری کی خلاف ورزی کی۔ اس کے علاوہ اس کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔

تاہم ایرانی وزارت خانہ کی طرف سے کہا گیا ہے 'ایرانی سفیرافسانہ ندی پور کو کوپن ہیگن میں دھمکی دی گئی ہے۔ نیز سفارت خانے کا ایک مقامی ملازم زخمی ہوا ہے اور سفارت خانے کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔'

واضح رہے ایرانی حکومت کو گزشتہ تین ہفتوں سے ملک کے اندر اور ملک سے باہر سخت احتجاج کا سامنا ہے۔ کہ اس کی اخلاقی پولیس نے ایک بائی سالہ لڑکی کو بے حجابی کے الزام میں گرفتار کیا اور اور بعد ازاں اس لڑکی مہسا امینی کی پولیس حراست میں ہی ہلاکت ہو گئی۔ اس کی ہلاکت کے خلاف پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

اس سے قبل ایران کے ریاستی ذرائع ابلاغ نے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے 'یہ بد قسمتی ہے کہ یورب کے قلب میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ کہ ایک شخص ایران کی خاتون سفیر پر حملہ آور ہوا اور ڈنمارک کی پولیس بروقت موقع پر نہ پہنچ سکی۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں