ایران مظاہرے

’’ابراہیم رئیسی یہاں سے گم ہوجاؤ‘‘؛جامعۃ الزہرا میں صدرکی آمد پرطالبات کی نعرے بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی صدرابراہیم رئیسی نے ہفتے کے روزدارالحکومت تہران میں واقع جامعۃ الزہرا کے کیمپس کا دورہ کیا ہے لیکن انھیں وہاں سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اخلاقی پولیس کے زیرحراست نوجوان خاتون مہساامینی کی ہلاکت پر مشتعل طالبات نے ان کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے اور انھیں مخاطب کرکے کہاکہ ’’ابراہیم رئیسی یہاں سےگم ہوجاؤ‘‘۔

مہساامینی کی ہلاکت پرجاری ملک گیرمظاہرے چوتھے ہفتے میں داخل ہوگئے ہیں۔ان مظاہروں نے ایران کو ہلاکررکھ دیا ہے مگر ایرانی قیادت احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں پر ٹس سے مس نہیں ہوئی ہے اوروہ ان پراپنے دشمنوں کو موردالزام ٹھہرارہی ہے۔

صدرابراہیم رئیسی نے جامعہ الزہرا میں پروفیسروں اور طالبات سے خطاب کرتے ہوئے ایک نظم پڑھی۔اس میں’’فسادیوں‘‘ (مظاہرین) کومکھیوں سے تشبیہ دی گئی تھی۔

سرکاری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر رئیسی نے ایران میں خواتین کی اس پہلی جامعہ میں منعقدہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا’’وہ (ایران کے دشمن) خیال کرتے ہیں کہ وہ یونیورسٹیوں میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرسکتے ہیں۔وہ اس بات سے بے خبرہیں کہ ہمارے طلبہ وطالبات اور پروفیسر چوکس ہیں اور دشمن کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔

سماجی کارکن 1500 کی ویب سائٹ کی ٹویٹرپر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب صدر جامعہ الزہرا کے کیمپس میں پہنچے تو طالبات ’رئیسی گم ہوجائیں‘اور’ملّا کھو جائیں‘کے نعرے لگا رہی تھیں۔

ایرانی کردخاتون 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت نے ملک بھرمیں نظام مخالف مظاہروں کوہوا دی ہے،ایران کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اس واقعہ کے خلاف احتجاج ہورہا ہے اور یہ احتجاجی تحریک ایران کی مذہبی قیادت کے لیے برسوں میں سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

خواتین نے مذہبی اسٹیبلشیا کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجی ریلیوں میں اپنے برقع اور سرپوش اتارپھینکے ہیں جبکہ مشتعل ہجوم نے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے اور مظاہرین ’مرگ برآمر‘ کے نعرے لگاتے دکھائی دیے ہیں۔

دریں اثناء ایران کے انسانی حقوق کے گروپ ہنگاو کے مطابق ہفتے کے روز کرد اکثریتی شہروں سنندج اورسقزمیں بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اپیل کی گئی تھی مگرایرانی سکیورٹی فورسز نے ان دونوں شہروں میں کریک ڈاؤن شروع کردیا اور سنندج اورسقز میں مظاہرین پر فائرنگ کی ہے۔بلوہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آورگیس کا بھی استعمال کیاہے۔

ایران کے شمال مغربی صوبہ کردستان کے دارالحکومت سنندج میں ایک شخص اپنی کار میں مردہ حالت میں پایاگیاہے جبکہ اس کے قریب ایک خاتون 'بے شرم' کے نعرے لگا رہی ہے۔سقزشہر کے چوک میں واقع ایک اسکول میں طالبات نے ’عورت، زندگی،آزادی‘ کے حق میں نعرے لگائے ہیں۔

واضح رہے کہ مہسا امینی کو 13 ستمبر کو تہران میں’’نامناسب لباس‘‘پہننے پرگرفتارکیا گیا تھا اور تین دن کے بعد اخلاقی پولیس ’گشت ارشاد‘ کے زیرحراست ہی ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

لیکن ایران کے سرکاری کرونر کی رپورٹ میں اس بات کی تردیدکی گئی ہے کہ مہساامینی کی موت پولیس حراست کے دوران میں سریا دوسرے جسمانی اعضاء پرچوٹ لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ سرکاری ڈاکٹروں کی رپورٹ میں ان کی موت کو پہلے سے موجود طبی حالات سے جوڑا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایران میں مظاہروں پرقابو پانے کی کوشش میں سکیورٹی فورسز نے 150 سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ان کی کارروائیوں میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں اورملک بھر سے ہزاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کو امریکا سمیت ایران کے دشمنوں کی سازش قرار دیتے ہوئے مسلح مخالفین اوردیگرپرتشدد کی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔اس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسزکے کم سے کم 20 ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں