القدس میں سکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ، 3 اسرائیلی اہلکار زخمی

اسرائیل اور فلسطین امن بحال کریں، مغربی کنارے اور القدس میں کشیدگی سے گریز کیا جائے: یو این رابطہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی اخبار ہارٹز نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ مشرقی القدس میں ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 سکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔

اخبار کے مطابق شعفاط مہاجر کیمپ میں ایک چیک پوائنٹ پر چلتی ہوئی کار سے فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کی زد میں آکر ایک صہیونی فوجی، بارڈر پولیس کی ایک خاتون اور ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا۔

اخبار کے مطابق پولیس کی ابتدائی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کار کے مشرقی القدس کی طرف جاتے ہوئے بھی مسلسل فائرنگ کی جاتی رہی۔

فائرنگ واقعہ کے فوراً بعد پولیس کو الطورمحلے سے اطلاعات موصول ہوگئیں کہ وہاں پر ایک گاڑی کو پولیس اہلکاروں پر چڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

تاہم گاڑی کو پولیس دستے پر چڑھانے کی اس کوشش میں کسی اہلکار کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ہفتے کے روز مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر ٹور وینس لینڈ نے اسرائیلی حکام اور فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ غرب اردن اور مشرقی القدس میں پرامن رہیں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔

وینس لینڈ نے سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال، فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں تشدد میں اضافہ "خوف، نفرت اور غصے کی فضا کو ہوا دے رہا ہے" ۔ انہوں نے کہا تناؤ کو قدرتی طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک لچکدار سیاسی منظرنامہ پیدا کرنے کیلئے اقدامات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

قبل ازیں ہفتے کے روز فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ مغربی کنارے کے علاقے جنین میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 2 فلسطینی شہید اور 11 زخمی ہوگئے ہیں۔

فلسطینی خبر ایجنسی ’’وفا‘‘ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صبح کے وقت اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ نے درجنوں گاڑیوں کے ساتھ مہاجر کیمپ پر دھاوا بول دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں