ترکی کے’ڈس انفارمیشن‘ بل سے صحافت کو مزید نقصان پہنچے گا:یورپی واچ ڈاگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی میں انسانی حقوق کے نگران یورپی ادارے کی قانونی تنظیم نے کہا ہے کہ صدررجب طیب ایردوآن کی حکومت کے پارلیمان میں پیش کردہ مجوزہ ’ڈس انفارمیشن‘ بل سے آزادیِ اظہاررائے کو خطرہ لاحق ہے اورملک میں اگلے سال ہونے والے انتخابات سے قبل صحافت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کونسل آف یورپ کو مشورے دینے والے وینس کمیشن کا کہنا ہے کہ مجوزہ بل میں غلط معلومات پھیلانے پر جیل کی سزا تجویز کی گئی ہے اور مسودۂ قانون سازی کے دیگر نتائج یہ ہیں کہ اس سے ’’اظہارِرائے کی آزادی پرمن مانی پابندیاں‘‘عاید ہوسکتی ہیں۔

صدررجب طیب ایردوآن کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کے ذریعے پریس اورسوشل میڈیا پرغلط معلومات کا ازالہ کیا جائے گا۔ ان کی حکمران جماعت آق پارٹی اور اتحادیوں کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے اور توقع ہے کہ وہ اس ہفتے کے اوائل میں اسے منظورکرلیں گے۔

ناقدین بشمول حزب اختلاف کی جماعتوں اور پریس گروپوں کو بنیادی طور پر اس مجوزہ قانون کی اس دفعہ پر تشویش لاحق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ خوف پیدا کرنے اور امنِ عامہ کو خراب کرنے کے لیے ترکی کی سلامتی کے بارے میں غلط معلومات پھیلاتے ہیں،انھیں ایک سے تین سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ خاص طور پراس طرح کی دفعات کے ممکنہ نتائج کے بارے میں فکرمند ہے، یعنی منفی اثرات اور خود سنسرشپ میں اضافہ، کم سے کم جون 2023 میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظرایسا نہیں ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بل یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (ای سی ایچ آر) کے وضع کردہ محفوظ اظہاررائے کی آزادی کے اصول میں مداخلت ہے۔اس نے قانون سازوں سے کہا کہ وہ بل میں شرائط کی وضاحت کریں اور اس ترمیمی مسودے کو مسترد کردیں ،جس پر گذشتہ ہفتے بحث ہوئی تھی۔

وینس کمیشن نے 23 صفحات پر مشتمل اپنے جائزے میں کہا ہے کہ جمہوری معاشرے میں غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے لیے متبادل اورغیرمجرمانہ طریقے موجود ہیں۔

اس بل کی منظوری کی صورت میں صدر ایردوآن کے دور میں آزادیِ اظہار رائے اور ذرائع ابلاغ کے خلاف دہائیوں سے جاری کریک ڈاؤن جاری رہےگا۔ترک صدر اور ان کی جماعت کواگلے سال صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں کڑے مقابلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی حالیہ تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ترکی کا مرکزی دھارے کا میڈیا کس طرح حکومت کی جانب سے منظورشدہ شہ سرخیوں ہی کو شائع اور نشرکرتا ہے۔

ترک پارلیمان نے گذشتہ ہفتے مجوزہ بل کی پہلی 15 دفعات کی منظوری دی تھی اور اب وہ آیندہ منگل کو اس قانون سازی پردوبارہ بحث کرے گی۔ترکی کو ای سی ایچ آر کے ایک فیصلے پر کونسل آف یورپ کی جانب سے معطلی کا سامنا ہے۔ترکی نے 2019 کے اس فیصلے کو نظرانداز کیا تھا جس میں انسان دوست کارکن عثمان کاوالا کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں