دو سو آٹھ بھارتیوں نے مل کر ایک شیر مارا

ایک شیر نے آٹھ بھارتی مار دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کے روز انڈین سکیورٹی اہلکاروں نے ایک ایسے شیر کو ہلاک کر دیا ہے جس نے اب تک کم از کم نو افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ شیر کو مارنے کی اس مہم میں محکمہ جنگلات کے 200 اہلکاروں اور 8 شکاریوں نے حصہ لیا۔

ریاست بہار کے علاقہ چمپارن میں والمیکی ٹائیگر ریزرو نام سے قائم کیے گئے نیشنل پارک میں شیر نے مقامی لوگوں کو دہشت زدہ کر رکھا تھا اور ماہ ستمبر میں ایک خاتون اور اس کے آٹھ سالہ بچے سمیت چھ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ماں اور بیٹے کی ہلاکت کے بعد حکام نے شیر کو خطرناک آدم خور قرار دے دیا تھا۔ اس سے پہلے شیر کو بے ہوش کرنے والی دوائی دی گئی تھی لیکن یہ کوشش بھی ناکام رہی۔

کرن کمار نے بتایا کہ شیر کے شکار کے لیے تین ٹیمیں تیار کی گئی تھیں۔ دو ٹیمیں ہاتھی پر بیٹھ کر نیشنل پارک قرار دیے گئے جنگل میں شیر کے شکار کے لیے گئیں اور ایک ٹیم ناکہ بندی کے لیے موجود تھی تاکہ شیر کو باہر نکلنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس دوران شکاری ٹیم نے بندوق سے پانچ راؤنڈ فائر کیے۔

آٹھ شکاریوں کے علاوہ محکمہ جنگلات کے 200 اہلکار بھی اس مہم میں ان کے ساتھ شریک رہے۔ چھ گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد شیر کو مارنے میں کامیابی ملی۔

مقامی حکام نے بتایا کہ نیشنل پارک کے قریب گنے کے کھیتوں کی وجہ سے شیر کے لیے کسانوں اور ان کے مویشیوں پر حملہ کرنا آسان ہوگیا تھا۔ مقامی لوگوں نے مئی میں شیر کی طرف سے کیے گئے پہلے حملہ کے بعد سے شام کو باہر نکلنا بند کر دیا تھا۔ شیر کے پہلے حملہ کی وجہ سے ایک نوجوان دیہاتی معذور ہوگیا تھا۔ پچھلے ماہ ایک 12 سالہ لڑکی کو شیر نے سوتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔

کسن یادیو نے مقامی میڈیا کو بتایا اس طرح کے خوف کے باوجود ہمارے لیے مشکل تھا کہ ہم گھروں میں محصور ہوجاتے۔ ہمیں اپنے بچوں اور مویشیوں کی ضروریات کے لیے بہرحال گھروں سے باہر نکلنا تھا۔

شیر کی ہلاکت کے بعد مقامی لوگ رات بھر جاگے اور شیر کی ہلاکت کا جشن منایا۔

2018 میں کی گئی شیر شماری کے مطابق ہندوستان میں 2967 شیر تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں