اوپیک پلس کی طرف سے تیل کی پیداوار کم رکھنے کے فیصلے پر روس کا اظہار مسرت

کریملن نے فیصلے کواچھا ، سوچا سمجھا اور ذمہ دارانہ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی طرف سے سرکاری طور پر اوپیک پلس کے اس فیصلے کو سراہا گیا ہے کہ جس کے تحت اوپیک پلس نے تیل کی پیداوا میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ روس کے خیال میں اس فیصلے کے نتیجے میں امریکہ کے تیل کی عالمی منڈی کو خراب کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے اور تیل کی عالمی منڈی میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کے حق میں توازن برقرار رہ سکے گا۔

اوپیک پلس کے اس فیصلے کی روسی تحسین سے قبل وائٹ ہاوس نے اوپیک پلس کی طرٖف سے پیداوار میں کمی کا فیصلہ روکنے کے لیے بہت کوشش کی تھی۔

امریکی صدر جوبائیڈن کی کوشش ہے کہ ماہ نومبر میں ہونےوالے وسط مدتی انتخاب تک امریکہ میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو تاکہ ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کانگریس پر اپنی گرفت مضبوط کر سکے۔

امریکی وزیر خزانہ جنیٹ ییلن نے اوپیک پلس کے پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے کو عالمی معیشت کے لیے غیر مددگار اور غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا تھا۔

لیکن ادھر کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تیل پیدارنے والے ممالک کے اس فیصلے کوایک اچھا ، متوازن ، سوچا سمجھا اور مربوط فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے بہت ذمہ دارانہ فیصلہ ہے۔ اس سے امریکہ کی طرف سے تباہی کی کوششوں کو بھی روک لگے گی۔

کریملن ترجمان نے کہا اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد امریکہ اپنے آپ کو قابو نہیں رکھ پا رہا ہے ، اس لیے اس کی کوشش ہے تیل کے اپنے ذخائر مارکیٹ میں پھینک کر منڈی پر اثر انداز ہو سکے۔ لیکن یہ تو امریکہ کے اپنے تیل کے ذخائر کے خلاف بھی ہیرا پھیری ہوگی۔ ایسا کھیل کھیلنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں