برطانیہ نے خواتین کے ساتھ ناروابرتاؤ پرایران کی ’اخلاقی پولیس‘پرپابندی عایدکردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ نے ایران کے سکیورٹی اداروں کے سینیر عہدے داروں اوراس کی’’نام نہاد اخلاقی پولیس‘‘(گشت ارشاد)پرپابندی عاید کردی ہے۔

برطانیہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گشت ارشاد نے حراست اور تشدد کی دھمکیوں کو ایرانی خواتین کے لباس اورعوامی مقامات پران کے برتاؤ اورنقل وحرکت کوکنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

16ستمبر کو تہران میں اخلاقی پولیس کے زیرحراست 22 سالہ نوجوان خاتون مہساامینی کی پُراسرار موت اور ایک دن بعد کرد اکثریتی شہرسقزمیں 17ستمبر کو ان کے جنازے کے موقع پر شروع ہونے والے مظاہرے ایران کے مذہبی رہنماؤں کے لیے برسوں میں سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں اور مظاہرین سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

برطانیہ نے مہساامینی کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے ایران کی تمام اخلاقی پولیس کے ساتھ ساتھ اس کے سربراہ محمد رستمی چشمہ گاچی اوراس کے تہران ڈویژن کے سربراہ الحاج احمد مرضئی دونوں پرمکمل پابندی عایدکردی ہے۔

برطانوی وزیرخارجہ جیمزکلیورلی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ پابندیاں ایرانی حکام کو ایک واضح پیغام دیتی ہیں اور وہ یہ کہ ’’ہم انھیں ہی خواتین اور لڑکیوں پر جبراور اپنے ہی لوگوں پر ہونے والے حیران کن تشدد کا ذمہ دارٹھہرائیں گے‘‘۔

ایرانی حکام نے ان مظاہروں کو امریکاسمیت ایران کے دشمنوں کی سازش قرار دیا ہے اور ایرانی قائدین مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کو بالکل جائز قرار دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں