ایران مظاہرے

جنوبی ایران میں تیل مزدوروں کی ہڑتال، حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے جنوب میں واقع پیٹروکیمیکل پلانٹس کے ملازمین نے پیر کے روز ہڑتال کردی ہے جبکہ ملک میں پہلے ہی نوجوان خاتون کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے بعد سے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ریڈیوفری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی ایرانی شاخ ریڈیو فردا نے خبردی ہے کہ ساحلی شہر عسلویہ میں واقع بوشہر،دماوند اور ہنگم پیٹرو کیمیکل پلانٹس کے ایک ہزار سے زیادہ کارکنوں نے ہڑتال کی اور اپنے مطالبات کے حق میں حکومت کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

ایران میں مظاہروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے دو لاکھ سے زیادہ فالورزوالے ٹویٹر اکاؤنٹ @1500tasvir کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز کے مطابق ہڑتالی کارکنوں نے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کی اور سڑکیں بند کردیں۔

ٹویٹرپر ہڑتال پر تبصرہ کرتے ہوئے کارنیگی انڈومنٹ برائے بین الاقوامی امن کے سینیرفیلو کریم ساجد پورنے بتایا کہ 1979 کے انقلاب میں بھی ہڑتال کرنے والے تیل کارکنوں نے ’’اہم کردارادا کیا‘‘ تھا۔اس احتجاجی تحریک نے ایران کے سابق شاہ کا تختہ الٹ دیا تھا اور’’اسلامی جمہوریہ‘‘ ایران کا ظہورہوا تھا۔

ایران کے تیل مزدوروں نے ایسے وقت میں یہ ہڑتال کی ہے جب ستمبر کے وسط سے ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں پہلے ہی مہساامینی کی موت کے ردعمل میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

مہساامینی کی موت کے بعد سے ملک بھر میں مظاہروں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ احتجاجی تحریک سیاسی شکل اختیارکرگئی ہے۔ مظاہرین اب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگارہے ہیں اور حکومت کے خاتمے کامطالبہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں