ایران مظاہرے

مہساامینی کی موت اسرائیل اورامریکا کی بھڑکائی بدامنی کا’بہانہ‘ ہے:سربراہ ایرانی عدلیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی عدلیہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ مہسا امینی کی موت اسلامی جمہوریہ کے مخالفین کی طرف سے ملک میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانے والا ’’بہانہ‘‘ تھا۔

غلام حسین محسنی اعجئی نے دعویٰ کیا:’’آج، یہ سب پر واضح ہوگیا ہے کہ ایک لڑکی کی موت مکمل طور پر ایک بہانہ تھا‘‘۔

محسنی اعجئی نے ایران کی فرانزک میڈیسن آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امینی کی موت متعدداعضاء کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی اور متوفیہ کے سر اور دوسرے جسمانی اعضاء پرکوئی چوٹ نہیں آئی تھی۔

مہساامینی کے والدامجدامینی نے اس رپورٹ کو منظرعام پرآنے کے چند گھنٹے بعد ہی مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی بیٹی کی گردن اور کانوں کے پیچھے خون کے نشانات تھے اور اس کے پیروں سمیت اس کے جسم کے بہت سے حصوں پر چوٹیں آئی تھیں۔

اس ماہ کے اوائل میں ایران کے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے بیانات کی بازگشت کرتے ہوئے محسنی اعجئی نے امریکا، اسرائیل اور’’کچھ یورپی ممالک‘‘پر ایران میں جاری بدامنی میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔

ایران میں مہسا امینی کی موت کے ردعمل میں ستمبر کے وسط سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی تہران میں حکومت کے سخت حجاب قوانین کی تعمیل نہ کرنے پراخلاقی پولیس کے زیرحراست موت واقع ہوئی تھی۔اس پراحتجاجی مظاہرے اب حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب سرگرم کارکنوں اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ امینی کو حراست کے دوران میں پولیس اہل کاروں نے ماراپیٹا تھا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں اور ان ہی زخموں سے ان کی موت واقع ہوئی تھی۔ اخلاقی پولیس گشت ارشاد ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

مہسا امینی کی موت کے بعد سے ملک بھرمیں احتجاجی مظاہروں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ سیاسی شکل اختیارکرچکے ہیں۔ مظاہرین سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں