روس اور یوکرین

کریمیا پل کے حادثہ پر تبصرہ نہیں کرتے مگر پوتین نے جنگ شروع کی: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حال ہی میں امریکہ کی جانب سے یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کے مد نظر ماسکو کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں ۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے کوآرڈینیٹر جان کربی نے اتوارکے روز کہا ہے کہ روس کو یوکرین سے ملانے والے کریمیا پل کے حادثے کے باوجود پیوتن کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے فیصلے سے متعلق کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔

"پوتین نے جنگ شروع کی"

جان کربی نے کریمیا پل کے حادثہ پر تبصرہ کرنے سے انکا ر کردیا، تاہم انہوں نے یاد دلایا کہ پوتین وہ ہے جس نے جنگ شروع کی ۔ گویا اس بیان سے انہوں نے اشارہ کیا کہ جنگ شروع کی ہے تو اس کے نتائج بھی برداشت کرنا ہوں گے۔

اے بی سی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ان کا ملک کیف کو فوجی مدد فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن یوکرین کے بحران کا حل چاہتا ہے۔

کربی نے مزید کہا کہ روس اور یوکرین کو مذاکرات کے ذریعے بحران کو حل کرنا چاہیے ۔ روسی جوہری خطرے سے متعلق بائیڈن کے بیان کے متعلق انہوں نے کہا امریکی صدر کا بیان یوکرین میں بڑے خطرے کی عکاسی کرتا ہے۔

مکالمے کی ضرورت

بڑے خطرے کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ ہی جان کربی نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ روسی صدر نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ کرلیا ہے۔

انہوں نے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روسی اور یوکرینی فریقوں کو بیٹھ کر مذاکرات کرنے اور پرامن اور سفارتی طریقے سے کوئی راستہ نکالنے کے قابل ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں