کیف اور درجنوں دیگر شہروں پر راکٹوں کی بارش،یوکرین کا بیلاروس پر ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کا دارالحکومت کیف پیر کے روز یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں سے لرز اٹھا۔ اس سے قبل یوکرین نے انتباہ کیا تھا کہ روس کریمیا میں پل حادثہ کے جواب میں کئیف پر حملے کرسکتا ہے۔

شہر کے میئر وٹالی کلیشکو نے کہا کہ روسی میزائلوں نے کیف کے وسط میں شیوچینکو محلے کے ساتھ ساتھ سولومینسکی کو بھی نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا حملے کی زد میں آنے والے علاقوں میں تمام ہنگامی خدمات کی فوری فراہمی کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

روسی حملہ

مئیر وٹالی کلیشکو نے شہر کے مکینوں سے کہا کہ وہ ہوائی الرٹ کی مدت کے اختتام تک پناہ گاہوں میں رہیں۔۔ انہوں نے کہا "ہم روسی حملے کی زد میں ہیں۔"

یوکرینی وزیر داخلہ کے مشیر روستیسلاو سمرنوف نے کہا کئیف پر روسی میزائل حملے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 24 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ 4 سے زیادہ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، حکام نے دارالحکومت میں تمام میٹرو لائنوں کا کام معطل کر دیا اور بڑے سٹیشنوں کو پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا۔

یوکرائن کے کئی شہروں میں بلیک آؤٹ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسی دوران لفیف، ڈنیپورو، خار کیف، ٹرنوپل اور زاپوریژیا میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

بیلاروس پر الزام

یوکرین کے حکام نے ماسکو کی حمایت کرنے والے بیلا روس پر بھی الزام عائد کردیا۔ یوکرین نے کہا کہ کئیف پر حالیہ بمباری بیلا روس سے کی گئی ہے۔

یوکرینی حکام نے کہا کئیف میں فضائی دفاعی نظام میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے ایک روز قبل یوکرین نے بیلاروس سے اپنے سفیر کو واپس بلانے کا اعلان کردیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ بیلاروس اپنی سرزمین سے یوکرین پر حملے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

بیلاروس ماسکو کا تزویراتی اتحادی ہے۔ بیلا روس نے یوکرین کے ساتھ سرحدوں پر اپنے تقریبا 20 ہزار فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے۔

بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکیف نے روس اور یوکرین میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اعلان کردیا تھا کہ بیلاروس ماسکو کے ساتھ ہے۔

روسی حملوں میں اضافے کا خدشہ

حالیہ روسی بمباری سے قبل کئی مرتبہ خبردار کیا جا چکا تھا کہ ماسکو یوکرین پر اپنے حملوں کو بڑھا سکتا ہے۔ خاص طور پر کریمیا کے پل کو نشانہ بنائے جانے کے بعد روسی حملوں میں اضافے کا خدشہ تھا۔ اس پل کا روس نے 2014 میں اپنے ساتھ الحاق کیا تھا۔

اس پل پر حملے کے بعد بہت سے مبصرین نے کہ رہے تھے کہ روسی صدر پیوتن اس حملے کا مثبت جواب دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں