روس اور یوکرین

یوکرینی علاقوں کے الحاق پر روس کا مواخذہ ضروری: بائیڈن اور شولز کا اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ماسکو کی جانب سے یوکرین کے چار علاقوں کے روس میں الحاق کے اعلان پر رد عمل دیتے ہوئے اتوار کے روز امریکی صدر بائیڈن اور جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا ہے کہ یوکرائنی علاقے کے الحاق کے بعد روس کو مواخذہ ضروری ہے۔

دونوں رہنماؤں نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنے اور عالمی بحران کے حل کے لیے پائیدار توانائی کے حصول پر زور دینے پر بھی اتفاق کیا۔

روسی دھوکہ دہی

امریکی صدر نے کہا کہ روس کا یوکرین کے چار علاقوں کو ضم کرنے کا اعلان دھوکہ دہی ہے۔ انہوں نے کہا یہ اعلان کرکے ماسکو نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

بائیڈن نے کہا امریکہ روس کی جانب سے خودمختار یوکرائنی علاقے کو ضم کرنے کی دھوکہ دہی کی کوشش کی مذمت کرتا ہے۔ روس اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔ ماسکو جہاں کہیں بھی پرامن ممالک موجود ہیں ان کی بھی توہین کا مرتکب ہو رہا ہے۔

بائیڈن نے مزید کہا کہ امریکہ ہمیشہ یوکرین کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام کرے گا۔ ہم یوکرین کی فوجی اور سفارتی طاقت کو مضبوط بناتے ہوئے اپنی سرزمین کو دوبارہ حاصل کرنے کی اس کی کوششوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔ یوکرین کو 1.1 ارب ڈالر کی اضافی سکیورٹی امداد بھی دی جا رہی ہے۔

سخت سزائیں

واضح رہے کہ یوکرینی علاقوں کے الحاق کے اعلان کے رد عمل میں امریکہ نے روسی حکام اور روس کے ڈیفنس سیکٹر پر سخت پابندیوں کا اعلان بھی کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں