امریکہ یوکرین کے جارحانہ کردار کی حوصلہ افزائی کر کے سفارتی حل کو پیچیدہ بنا رہا: زخا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروف نے کہا ہے کہ سفارت کاری کیلئے روس کے دروازے کھلے ہیں تاہم واشنگٹن کی جانب سے یوکرین کے جارحانہ کردار کی حوصلہ افزائی تنازعہ کے سفارتی حل کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

زخاروف نے روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ہم ایک مرتبہ پھر خاص طور پر امریکہ کیلئے اپنی بات دہرا رہے ہیں کہ یوکرین میں ہم نے جو باتیں طے کی ہیں ان پر عمل کیا جائے۔

سفارت کاری کے لیے دروازے کھلے ہیں

ماریہ زخاروف نے کہا کہ روس سفارت کاری کے لیے کھلا ہے اور اس کی شرائط بھی اچھی طرح معلوم ہیں۔ اور جب تک واشنگٹن کئیف کے جارحانہ کردار کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا اور یوکرینی تخریب کاروں کی دہشت گردی کو روکنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا سفارتی حل تلاش کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا چلا جائے گا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز یوکرینی دارالحکومت کئیف اور دیگر شہروں پر روسی میزائل حملوں کی شدید مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ حملے پوتین کی طرف سے چھیڑی گئی غیر قانونی جنگ کی مکمل سفاکیت کو بھی ظاہر کر رہے ہیں۔ ان حملوں میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے اور بیکار فوجی اہداف کو تباہ کیا گیا۔ امریکی صدر نے مزید کہا ہم روس پر اس خوفناک جارحیت کی قیمت لاگو کرتے رہیں گے۔

امریکی صدر کا یہ بیان روس کی جانب سے کئیف اور یوکرین کے دیگر شہروں کے انفراسٹرکچر کو نشانہ کیلئے 80 سے زائد میزائل برسانے کے بعد سامنے آیا تھا۔

دوسری طرف پوتین نے دھمکی دی تھی کہ اگر کئیف نے دوبارہ روسی سرزمین پر حملہ کی کوشش کی تو اس سے بھی زیادہ سخت ردعمل دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں