ایران مظاہرے

ایران میں احتجاجی تحریک جاری،سب سے بڑی آئل ریفائنری کے ملازمین کی ہڑتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے جنوب مغرب میں واقع ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کے ملازمین نے منگل کے روز ہڑتال کردی ہے۔سوشل میڈیا پر زیرگردش فوٹیج کے مطابق ملک میں جاری بدامنی کے دوران میں احتجاجی تحریک ایران کی تیل کی اہم صنعت تک پھیل گئی ہے۔

انسانی حقوق کارکنان کی خبررساں ایجنسی (ایچ آر اے این اے) کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال صوبہ خوزستان میں واقع شہرآبادان کی ریفائنری کے باہردرجنوں مزدورجمع ہو رہے ہیں۔

آبادان ریفائنری ایران کی سب سے بڑی اور مشرق اوسط میں واقع تیل صاف کرنے کا قدیم ترین کارخانہ ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ صورے حال میں ایرانی حکومت اپنی تیل کی صنعت میں بڑے حملوں کا سامنا نہیں کر سکے گی۔

کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے سینئر فیلو کریم ساجدپور نے ٹویٹر پرلکھا کہ ’’1978ء کے اوائل میں ایران کی آبادی ساڑھے تین کروڑ نفوس پر مشتمل تھی۔اس وقت وہ 60 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیدا کررہا تھا۔تب ہڑتالی تیل کارکنوں نے تیل کی پیداوار کو کم کرکے 15 لاکھ بیرل یومیہ کردیا تھا جس سے شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا تھا۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ آج کے ایران کی آبادی آٹھ کروڑ30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور وہ روزانہ 25 لاکھ بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے۔ایرانی حکومت تیل کی صنعت سے وابستہ کارکنوں کی ایک طویل یا مستقل ہڑتال کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔

ان کے بہ قول 1979 کے انقلاب میں بھی ہڑتال کرنے والے تیل کارکنوں نے ’’اہم کردارادا کیا‘‘ تھا۔اس احتجاجی تحریک نے ایران کے سابق شاہ کا تختہ الٹ دیا تھا اور’’اسلامی جمہوریہ‘‘ ایران کا ظہورہوا تھا۔

ایک مقامی عہدہ دار نے منگل کے روزدعویٰ کیا ہے کہ عسلویہ میں پیر کی ہڑتال اجرت کے تنازع پرتھی اوراس کا ملک بھر میں جاری حکومت مخالف مظاہروں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔یہ مظاہرے نوجوان خاتون مہساامینی کی تہران میں اخلاقی پولیس کے زیرحراست موت کے بعد سے وسط ستمبر سے جاری ہیں۔

ایران کے جنوب میں واقع پیٹروکیمیکل پلانٹس کے ملازمین نے پیر کے روز ہڑتال کردی تھی۔ریڈیوفری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی ایرانی شاخ ریڈیو فردا نے خبردی تھی کہ ساحلی شہرعسلویہ میں واقع بوشہر،دماوند اور ہنگم پیٹرو کیمیکل پلانٹس کے ایک ہزار سے زیادہ کارکنوں نے ہڑتال کی اور اپنے مطالبات کے حق میں حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

ایران میں مظاہروں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے دو لاکھ سے زیادہ فالورزوالے ٹویٹر اکاؤنٹ @1500tasvir کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوزکے مطابق ہڑتالی کارکنوں نے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کی اور سڑکیں بند کردیں۔

ایران کے تیل مزدوروں نے ایسے وقت میں یہ ہڑتال کی ہے جب ستمبر کے وسط سے ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں پہلے ہی مہساامینی کی موت کے ردعمل میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہےاور یہ احتجاجی تحریک سیاسی شکل اختیارکرگئی ہے۔مظاہرین اب سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگارہے ہیں اور حکومت کے خاتمے کامطالبہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں