بھارت نے روس کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مفید قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت نے روس کے ساتھ اپنے دیرنہ تعلقات کو ایک بار پھر اپنے لیے اہم اور مفید قرار دیا ہے اور پاکستان کا نام لیے بغیر اس کے ساتھ مغربی ممالک کے تعلقات پر تنقید کی اور کہا ہمارے پڑوس میں مغربی ممالک ایک فوجی آمریت والے ملک کے ساتھ کی حمایت میں کھڑے رہتے ہیں۔ یہ بات آسٹریلوی دارالحکومت میں بھارتی وزیرخارجہ جے شینکر نے اپنے آسٹریلوی ہم منصب 'پینی وانگ؎ کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوارن کہی ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ نے روس کے ساتھ بھارتی تعلققات کے بارے میں کہا بلا شبہ ان تعلقات نے بھارت کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ہم جنوبی ایشائی ممالک کے لیے سوویت اور روسی ہتھیاروں کی کافی تعداد موجود ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ نے روس کے لیے اپنے ملک کی قربت کا واضح ذکر کرنے باوجود یوکرین روس مسائل کے بارے میں ' ہم دونوں کے تصدام کے خلاف ہیں کیونکہ اس تصادم کا سب سے زیادہ نقصان کم آمدنی والے ملکوں کو ہو دوسری جانب بھارت کے وزیر کارجی ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ بھارت روس کے ساتھرہا ہے۔'

بھارتی وزیر خارجہ کی طرف سے یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس کی طرف سے یوکرین پر تازہ میزائل حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ میزائل حملے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت تین مختلف مقامات کرکیے گئے ہیں۔

جے شینکر نے مزید کہا ' ہمارا ملک جنگ میں پھیلاو کی وجہ سے سخت تشویش میں مبتلا ہے۔ کیونکہ اس میں شہری اور شہری انفراسٹرکچر کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔'

بھارتی وزیر کارجہ نے مزید کہا ' ہم فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہیں اور دونوں سے کہتے ہیں کہ سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

واضح رہے روس اسلحے کی خرداری اور توانائی کے حصول کے لیے روس پر بہت بھروسہ کرتا ہے ۔ لیکن ا سکے ساتھ ہی ساتھ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی اجافہ کررہا ہے۔ تاہم اس کی کوشش ہے کہ دونوں بڑے ملکوں کےساتھ تعلقات میں توازن رکھے۔
دوسری جانب بھارتی وزیر خزانہ ہردیپ سنگھ پوری کا کہا ہے کہ ہم روس کے ساتھ مثبت اور سحت مندانہ مکالمہ کے کواہاں ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ روس ہمیں تونائی کے کے سلسلے میں کیا پیش کش کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں